بونیا، عوامی جمہوریہ کانگو: عوامی جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کی نئی وبا پر قابو پانے کی کوششیں بنیادی طبی سامان کی کمی، دیر سے تشخیص، متاثرہ علاقوں تک مشکل رسائی اور عالمی امدادی نظام میں کمزوریوں کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔ امدادی کارکنوں اور صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی عالمی صحت پروگراموں میں کمی، خاص طور پر USAID کے کردار میں سکڑاؤ، نے پہلے سے کمزور نگرانی اور ردعمل کے نظام کو مزید متاثر کیا۔
عالمی ادارہ صحت نے 16 مئی 2026 کو کانگو اور یوگنڈا میں Bundibugyo وائرس سے پھیلنے والی ایبولا وبا کو بین الاقوامی تشویش کی عوامی صحت ایمرجنسی قرار دیا۔ WHO کے مطابق 16 مئی تک کانگو کے صوبہ ایتوری میں 8 لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز، 246 مشتبہ کیسز اور 80 مشتبہ اموات رپورٹ ہو چکی تھیں، جبکہ یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں دو تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے، جن میں ایک موت بھی شامل تھی۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق صورتحال تیزی سے بگڑی ہے۔ Reuters نے بتایا کہ مشتبہ کیسز کی تعداد تقریباً 600 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 139 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ WHO نے عالمی پھیلاؤ کا خطرہ کم مگر کانگو اور خطے کے اندر خطرہ بلند قرار دیا ہے۔
زمینی سطح پر مسئلہ صرف وائرس کا نہیں، وسائل کا بھی ہے۔ ایتوری میں طبی عملے کو ماسک، دستانے، حفاظتی کٹس، درد کم کرنے والی ادویات اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کے لیے موٹر سائیکلوں تک کی کمی کا سامنا ہے۔ Reuters کے مطابق مقامی اسپتال پہلے ہی دباؤ میں ہیں، اور کئی مراکز نے ہاتھ دھونے کے اسٹیشنز، تھرمامیٹر، سینیٹائزر اور بنیادی حفاظتی سامان کی فوری ضرورت ظاہر کی ہے۔
یہ وبا اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ Bundibugyo strain کے خلاف کوئی لائسنس یافتہ مخصوص ویکسین یا منظور شدہ مخصوص علاج موجود نہیں۔ WHO کے مطابق اس وائرس کے سابقہ پھیلاؤ میں شرح اموات 30 سے 50 فیصد تک رہی ہے، جبکہ علاج زیادہ تر supportive care — یعنی مریض کو الگ رکھنا، پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنا، علامات کم کرنا اور انفیکشن کنٹرول — پر منحصر ہے۔
ماہرین کے نزدیک اصل نقصان تاخیر سے ہوا۔ WHO کے مطابق پہلے معلوم مشتبہ مریض، جو ایک ہیلتھ ورکر تھا، میں علامات 24 اپریل کو ظاہر ہوئیں، مگر وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا۔ اس وقفے نے وائرس کو خاموشی سے پھیلنے کا موقع دیا۔
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ نگرانی کا نظام پہلے ہی کمزور تھا، اور امریکی امدادی ڈھانچے میں کمی نے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا۔ Médecins Sans Frontières، International Rescue Committee اور دیگر امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کیسز کا پتہ لگانے، رابطوں کی نگرانی اور مقامی سطح پر فوری ردعمل میں خلا رہ جائے تو ایبولا جیسی بیماری چند ہفتوں میں قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
امریکا مکمل طور پر غائب نہیں ہے۔ CDC نے 19 مئی کو جاری Health Alert میں کہا کہ وہ کانگو اور یوگنڈا کی وزارتِ صحت کے ساتھ surveillance، contact tracing، لیبارٹری ٹیسٹنگ، انفیکشن کنٹرول اور سفری نگرانی کے معاملات میں تعاون کر رہا ہے۔ CDC نے یہ بھی کہا کہ اس وقت امریکا میں پھیلاؤ کا خطرہ کم سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وبا کے شروع ہونے سے پہلے جو تیاری درکار ہوتی ہے، وہ بعد میں ہنگامی امداد سے پوری نہیں ہو سکتی۔ ایبولا کو روکنے کا اصل وقت وہ ہوتا ہے جب پہلا مریض سامنے آتا ہے، یا اس سے بھی پہلے، جب مقامی صحت کارکن غیر معمولی اموات اور بخار کے clusters کو پہچان سکیں۔ یہاں یہی کڑی کمزور پڑتی دکھائی دی۔
WHO کا کہنا ہے کہ Bundibugyo strain کے لیے مؤثر ویکسین کی دستیابی میں چھ سے نو ماہ لگ سکتے ہیں، اگرچہ کچھ امیدوار ویکسینز پر کام جاری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آنے والے ہفتوں میں containment کا انحصار روایتی عوامی صحت اقدامات پر ہوگا: مریضوں کی فوری شناخت، isolation، محفوظ تدفین، رابطوں کی نگرانی، کمیونٹی آگاہی اور فرنٹ لائن عملے کو حفاظتی سامان کی فراہمی۔
علاقے کی سکیورٹی صورتحال بھی ردعمل کو مشکل بنا رہی ہے۔ ایتوری اور مشرقی کانگو کے بعض حصوں میں مسلح تنازع، نقل مکانی اور ناقص انفراسٹرکچر نے طبی ٹیموں کی رسائی محدود کر دی ہے۔ ایسی جگہوں پر ایک موٹر سائیکل، ایک حفاظتی کٹ یا ایک فعال لیبارٹری ٹیسٹ بھی وبا کی رفتار بدل سکتا ہے۔
WHO نے طبی سامان بھجوانا شروع کر دیا ہے، جبکہ امدادی ادارے بھی ایمرجنسی اسٹاک متاثرہ علاقوں تک پہنچا رہے ہیں۔ لیکن مقامی کارکنوں کے مطابق ضرورت اب بھی دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بحران ایک پرانی حقیقت دوبارہ یاد دلا رہا ہے: ایبولا صرف اسپتالوں میں نہیں روکا جاتا۔ اسے گاؤں، سرحدی راستوں، تدفین کے مقامات، لیبارٹریوں اور مقامی کمیونٹیز کے اندر روکا جاتا ہے۔ جب عالمی صحت کے نظام پہلے سے کمزور کر دیے جائیں، تو وبا کے وقت اس کی قیمت فرنٹ لائن ورکرز اور عام شہری ادا کرتے ہیں۔
