پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں بدھ کے روز بھی تیزی کا تسلسل برقرار رہا اور بینچ مارک KSE-100 انڈیکس میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے امکانات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
کراچی کے ٹریڈنگ فلور پر اس وقت صورتحال بدلی جب خطے میں سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کو محدود کرنے کی خبریں سامنے آئیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے تیل کی قیمتوں میں استحکام اور جغرافیائی سیاسی خطرات میں کمی، مارکیٹ میں خریداری کا ایک واضح اشارہ ثابت ہوئی۔
KSE-100 انڈیکس کاروبار کے آغاز میں ہی 86,000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔ بینکنگ سیکٹر کے ہیوی ویٹس سے لے کر مقامی کھاد ساز کمپنیوں تک، سرمایہ کاروں کی دلچسپی وسیع پیمانے پر دیکھی گئی۔
ایک مقامی بروکریج ہاؤس کے سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ٹھنڈا ہونے پر ردعمل دے رہی ہے۔ جب بڑے تنازعے کا خطرہ ٹلتا ہے تو سرمایہ کار سب سے پہلے پاکستان جیسی ایمرجنگ مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں۔”
اگرچہ مارکیٹ میں جوش و خروش واضح ہے، تاہم تجربہ کار ٹریڈرز محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ تیزی مقامی معاشی پالیسیوں میں اچانک تبدیلی کے بجائے بیرونی استحکام پر زیادہ منحصر ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب بھی مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار اور مرکزی بینک کے شرح سود کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں؛ یہ دونوں عوامل طے کریں گے کہ آیا یہ تیزی سہ ماہی کے اختتام تک برقرار رہ پائے گی یا نہیں۔
غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار، جو گزشتہ ماہ کے دوران مسلسل فروخت کنندگان رہے تھے، اب دوبارہ مارکیٹ میں متحرک ہو چکے ہیں۔ ان کی واپسی مقامی ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے، جو اکثر بڑے کیپٹل فلو کے رجحان کو دیکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔
فی الحال ٹریڈنگ فلور پر یہ قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ خطے میں بدترین اتار چڑھاؤ کا دور گزر چکا ہے۔ تاہم، یہ اعتماد کتنا پائیدار ثابت ہوگا، اس کا انحصار مکمل طور پر اس بات پر ہے کہ سفارتی کوششیں کتنی جلد ایک مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہوتی ہیں۔
