واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس (DNI) کے منصب پر فائز ٹُلسی گیبارڈ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تازہ رپورٹنگ کے مطابق انہوں نے 22 مئی 2026 کو اپنا فیصلہ ظاہر کیا اور کہا کہ ان کا استعفیٰ 30 جون 2026 سے مؤثر ہوگا۔
گیبارڈ نے اپنے استعفے کی وجہ خاندانی مجبوری بتائی ہے۔ مختلف معتبر رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر ابراہم ولیمز ایک نہایت نایاب قسم کے ہڈیوں کے کینسر میں مبتلا ہیں، اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں انہیں اپنی مکمل توجہ اور ساتھ درکار ہوگا۔
یہ استعفیٰ ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران قومی سلامتی کی ٹیم میں ایک اہم تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گیبارڈ اس مدت میں عہدہ چھوڑنے والی چوتھی کابینہ سطح کی شخصیت ہیں، جبکہ دیگر تازہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کے بعد پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر آرن لوکس عبوری طور پر منصب سنبھال سکتے ہیں۔
ان کا دورِ ذمہ داری خاصا ہنگامہ خیز سمجھا جاتا رہا۔ موجودہ امریکی رپورٹنگ کے مطابق گیبارڈ کے دور میں خارجہ پالیسی، خاص طور پر ایران سے متعلق معاملات، اور وائٹ ہاؤس کے اندر ان کی پوزیشن کے بارے میں مسلسل بحث رہی۔ بعض رپورٹس نے ان کے تقریباً پندرہ ماہ کے دور کو تنازعات اور اندرونی کشیدگی سے بھرپور قرار دیا ہے۔
ایک دلچسپ انتظامی پہلو یہ بھی ہے کہ خبر سامنے آنے کے بعد بھی ODNI کی سرکاری قیادت والی ویب صفحہ پر گیبارڈ کا نام بطور ڈائریکٹر موجود تھا، جبکہ اسی سرکاری ریکارڈ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آرن لوکس واقعی پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ سرکاری ویب ریکارڈ خبر کے مقابلے میں کچھ دیر سے اپ ڈیٹ ہو رہا تھا۔
فی الحال اس خبر کا واضح خلاصہ یہی ہے: ٹُلسی گیبارڈ نے استعفیٰ دے دیا ہے، مؤثر تاریخ 30 جون 2026 بتائی گئی ہے، اور وجہ ان کے شوہر کی سنگین علالت ہے۔ اب اگلا اہم سوال یہ ہوگا کہ وائٹ ہاؤس اس عہدے کے لیے مستقل جانشین کب اور کسے نامزد کرتا ہے۔
