تہران نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسے 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے دی گئی تجاویز پر واشنگٹن کا باضابطہ جواب موصول ہو گیا ہے۔ کئی ماہ سے جاری تعطل کے بعد ہونے والی یہ پیش رفت سفارتی محاذ پر ایک نازک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ حکام اس وقت امریکی دستاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے جواب کے مندرجات یا اس کے لہجے کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے یورپی یونین کے ثالثوں کے ذریعے اپنا موقف پہنچا دیا ہے، تاہم انہوں نے جاری مذاکرات کی حساسیت کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ عالمی برادری کے لیے اس معاملے کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ 2018 میں اس معاہدے سے امریکہ کے انخلا کے بعد سے یہ سمجھوتہ عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کی جانب سے یہ حالیہ کوشش اس معاہدے کو بچانے کی ایک آخری کوشش معلوم ہوتی ہے، اس سے پہلے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر باقی ماندہ پابندیاں بھی ختم ہو جائیں۔ ماہرین کسی بھی بڑی کامیابی کا اعلان کرنے میں احتیاط برت رہے ہیں۔ ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے پچھلے ادوار بارہا ایران کے معاشی ضمانتوں کے مطالبے اور پاسدارانِ انقلاب کو امریکی دہشت گرد فہرست سے نکالنے کے معاملے پر تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ دونوں دارالحکومتوں کی خاموشی یہ بتاتی ہے کہ اگرچہ رابطے بحال ہیں، لیکن دونوں کے موقف میں خلیج اب بھی بہت گہری ہے۔ تہران ایک ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو اس کی معیشت کو مستقبل میں امریکی پالیسیوں میں تبدیلیوں سے محفوظ رکھ سکے، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر ایسی ضمانت دینا ممکن نہیں۔ اگر یہ جائزہ عمل کسی ٹھوس سمجھوتے کے بغیر ختم ہوا، تو سفارتی حل کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتے ہیں۔ فی الحال گیند تہران کے کورٹ میں ہے، اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ یہ تبادلہ کسی حتمی معاہدے کی طرف جاتا ہے یا محض تاخیری حربوں کا ایک اور سلسلہ ثابت ہوتا ہے۔
