تہران فی الحال اپنے 14 نکاتی تجاویز کے سلسلے میں امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔ سرکاری میڈیا نے منگل کے روز اس پیش رفت کو علاقائی استحکام کی بحالی کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ یہ تجاویز پسِ پردہ ہونے والی بات چیت کے دوران سامنے آئیں، جن کا مقصد پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سیکیورٹی پروٹوکول سے متعلق دیرینہ تحفظات کو دور کرنا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے امریکی جواب کی تفصیلات پر تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاہم واشنگٹن کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے "حقیقت پسندانہ” راستے کی تلاش میں ہیں جس سے ان کے موجودہ سیکیورٹی وعدوں پر آنچ نہ آئے۔ تہران کے لیے اس وقت داؤ پر بہت کچھ لگا ہے۔ ملکی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث حکومت پر شدید دباؤ ہے۔ ایرانی قیادت کو عوام کے سامنے کسی ایسی ٹھوس کامیابی کی ضرورت ہے جو ثابت کر سکے کہ سفارت کاری معاشی ریلیف لا سکتی ہے۔ ادھر واشنگٹن کا موقف ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خطرات اور اپنی پالیسیوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بات چیت پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ 14 نکاتی دستاویز ایک "لٹمس ٹیسٹ” کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے یہ واضح ہوگا کہ آیا دونوں فریق واقعی کسی پیش رفت کے لیے سخت سمجھوتوں پر تیار ہیں یا نہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ سے بات کرتے ہوئے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ "جواب کا جائزہ لیا جا رہا ہے،” تاہم انہوں نے کسی حتمی فیصلے کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی۔ انہوں نے اس بارے میں بھی کوئی اشارہ نہیں دیا کہ آیا امریکی فیڈبیک میں ان ضمانتوں کا ذکر ہے جن کا مطالبہ تہران مہینوں سے کر رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب دونوں فریقین نے تفصیلی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے، ماضی میں بھی ایسی کوششیں باہمی عدم اعتماد کی نذر ہوتی رہی ہیں۔ گزشتہ ناکامیوں کی بنیادی وجہ اقدامات کی ترتیب پر اتفاق رائے کا نہ ہونا تھا — کہ پہلے کون قدم اٹھائے گا اور تعمیل کا ثبوت کیا ہوگا۔ دونوں دارالحکومتوں کی موجودہ خاموشی اشارہ کر رہی ہے کہ اگر یہ دور ناکام ہوا تو سفارتی راستہ طویل عرصے کے لیے بند ہو سکتا ہے۔ خطے میں کشیدگی پہلے ہی نقطہ عروج پر ہے، ایسے میں امریکی جواب کو قبول کرنے کا فیصلہ تہران کے لیے محض ایک سیاسی حساب کتاب نہیں، بلکہ یہ دشمنی میں ممکنہ کمی اور شدید غیر یقینی صورتحال کے درمیان ایک انتخاب ہے۔
