MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
terrorism

بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی، پاک-امریکہ سکیورٹی معاہدے کے مستقبل کے لیے خطرہ

Last updated: مئی 3, 2026 10:41 شام
Amna Iqbal
Share
SHARE
واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین مجوزہ سکیورٹی فریم ورک ایک سنگین بحران کی زد میں ہے۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں شدت پسند حملوں کی لہر نے ان سفارتی کوششوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ سٹریٹجک شراکت داری، جس کا مقصد علاقائی استحکام تھا، اب زمینی حقائق — خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بڑھتے ہوئے حملوں اور افغان طالبان کے سخت رویے — کے سائے میں دبتی جا رہی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے لیے یہ معاہدہ خطے میں انسدادِ دہشت گردی کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کا ایک آزمودہ حربہ ہے۔ 2021 میں انخلا کے بعد سے امریکہ کی خطے میں موجودگی کم ہوئی ہے، اور اب وہ پاکستان کی داخلی سکیورٹی کو مضبوط کر کے بین الاقوامی دہشت گردی کے سیلز کے دوبارہ ابھرنے کو روکنا چاہتا ہے۔ تاہم، اس منصوبے کی کامیابی ایک مستحکم شراکت دار پر منحصر ہے، اور اس وقت پاکستان خود ایک ایسی داخلی شورش سے نبرد آزما ہے جس میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ خطرات فوری نوعیت کے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں فوجی چوکیوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے، جس میں درجنوں سکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ یہ محض چھٹ پٹ کارروائیاں نہیں، بلکہ منظم اور تکنیکی حملے ہیں جنہوں نے پاکستان کے موجودہ سکیورٹی ڈھانچے کی حدود کو آشکار کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کی ایک بڑی تعداد اب ایک تلخ حقیقت تسلیم کر رہی ہے: اگر پاکستان اپنے سرحدی علاقوں کو محفوظ نہیں بنا سکتا، تو امریکہ کی طویل مدتی فوجی تعاون کی دلچسپی ختم ہو جائے گی۔ مذاکرات سے واقف ایک سابق امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "سکیورٹی کا منظرنامہ اب قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ آپ ریت کے ٹیلوں پر بنیاد نہیں رکھ سکتے۔ اگر تشدد کی یہ شرح برقرار رہی، تو وائٹ ہاؤس کے لیے اس شراکت داری کی سیاسی قیمت ادا کرنا ناممکن ہو جائے گا۔” پاکستان کی وزارتِ خزانہ بھی صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ملکی معیشت کو بین الاقوامی تعاون اور استحکام کی اشد ضرورت ہے، مگر داخلی سکیورٹی آپریشنز کے اخراجات قومی بجٹ پر بوجھ بن چکے ہیں۔ اسلام آباد ایک ایسے دائرے میں پھنسا ہے جہاں اسے استحکام کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے، جبکہ سرحدی علاقوں کی کشیدگی امریکہ کو اس معاہدے کے دائرہ کار پر نظر ثانی پر مجبور کر رہی ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو روکنے سے انکار — اور اس مؤقف کا اعادہ کہ یہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے — نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے کہ کابل حکومت کوئی بفر کردار ادا کرے گی۔ یہ صورتحال اسلام آباد کو انٹیلی جنس اور تکنیکی مدد کے لیے واشنگٹن کی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ امریکہ خود کسی مقامی تنازع میں الجھنے سے گریزاں ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور قریب ہے، مگر دونوں فریقین کے درمیان خلیج واضح ہے۔ ایک ایسا نقشہ جس پر ایک سال قبل کام شروع کیا گیا تھا، اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ معاہدہ شاید دستخط ہو بھی جائے، لیکن اگر عسکریت پسندوں نے سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیوں کی رفتار برقرار رکھی، تو یہ معاہدہ کاغذ کے ایک بے اثر ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔
Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں لچک دکھائی ایران نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں لچک دکھائی
Next Article ایران کی امریکی جواب پر غور: 14 نکاتی تجاویز پر سفارتی پیش رفت کا امکان
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
تازہ ترین سیاست
اکتوبر 1, 2026
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
Health تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026

You Might Also Like

بونڈائی بیچ حملہ آور کو غیر مسلح کرنے کے بعد شہرت پانے والے شخص نے والد پر تشدد کے الزام کی تردید کر دی
terrorismعدالت اور جرائم

بونڈائی بیچ حملہ آور کو غیر مسلح کرنے کے بعد شہرت پانے والے شخص نے والد پر تشدد کے الزام کی تردید کر دی

By Siraj Ahmed
کے پی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن: 21 خوارج ہلاک، آئی ایس پی آر
terrorismتازہ ترین

کے پی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن: 21 خوارج ہلاک، آئی ایس پی آر

By Ayesha Masood
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?