تہران نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کشیدہ علاقائی صورتحال اور تعطل کا شکار سفارتی چینلز کے درمیان ایک نئے راستے کی تلاش میں ہیں۔ یہ تبدیلی اشارہ دیتی ہے کہ ایرانی مذاکرات کار ان شرائط پر دوبارہ غور کرنے کو تیار ہیں جنہیں ماضی میں ناقابلِ بحث قرار دیا گیا تھا۔ اگرچہ مجوزہ ترامیم کی تفصیلات ابھی صیغہ راز میں ہیں، لیکن یہ اقدام اس سخت گیر مؤقف سے واضح انحراف ہے جس نے مہینوں تک مذاکرات کو جمود کا شکار رکھا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے تہران کے اس مبینہ اقدام پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ تاہم، ویانا اور دیگر سفارتی مراکز کے پس پردہ حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ ایک حقیقی پیش رفت ہے یا پھر داخلی معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے ایک وقتی حکمت عملی۔ ایرانی قیادت کے لیے داؤ پر بہت کچھ لگا ہے۔ ملکی معیشت بین الاقوامی پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے کا بنیادی مقصد پابندیوں میں ریلیف کا حصول ہے۔ ایک مغربی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہم ان اشاروں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ بیان بازی میں تبدیلی ایک الگ چیز ہے، جبکہ جوہری سرگرمیوں میں تصدیق شدہ تبدیلی کا ہونا مکمل طور پر الگ معاملہ ہے۔” ان مذاکرات کی تاریخ ایسے "محتاط رجائیت” کے لمحات سے بھری پڑی ہے جو اکثر کسی نتیجے پر پہنچے بغیر تحلیل ہو جاتے ہیں۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) آج بھی معیار بنا ہوا ہے، اگرچہ اس کی حیثیت اب صرف کاغذات تک محدود ہے۔ تہران کی جانب سے شرائط پر بات کرنے کی آمادگی ظاہر کرتی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے دباؤ کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں، چاہے وہ اپنے جوہری عزائم کو مکمل طور پر ترک کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ کیا یہ لچک کسی ٹھوس معاہدے میں ڈھل سکے گی؟ اس سوال کا جواب تہران میں بیٹھی انتظامیہ کی اگلی چالوں میں پوشیدہ ہے۔ فی الحال، ایرانی حکام اس شرط پر کھیل رہے ہیں کہ ایک متوازن اور مفاہمانہ لہجہ شاید اس دروازے کو دوبارہ کھول سکے جو طویل عرصے سے مقفل تھا۔
