تہران کی قیادت نے آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک سخت الٹی میٹم جاری کیا ہے: یا تو ایک سمجھوتہ شدہ جوہری معاہدہ قبول کریں یا پھر ایسی فوجی کارروائی کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں جسے ایرانی حکام ایک ‘آپریشنل ناممکن’ عمل قرار دے رہے ہیں۔
یہ بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ اپنی پہلی مدتِ صدارت میں ٹرمپ نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کو الگ کر لیا تھا اور ایران پر ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی کے تحت پابندیاں عائد کی تھیں۔ اب، جبکہ ایک نئے اور سخت امن منصوبے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، تہران یہ پیغام دے رہا ہے کہ 2018 کے مقابلے میں خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔
ایرانی حکام براہِ راست فوجی حملے کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ خطے میں ایران کے پراکسی نیٹ ورک کی مضبوطی اور زیرِ زمین جوہری تنصیبات نے کسی بھی ‘سرجیکل اسٹرائیک’ کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ تہران کے نزدیک اب امریکہ کے پاس صرف دو راستے ہیں: ایک ایسا سفارتی سمجھوتہ جسے وہ خود ‘برا معاہدہ’ مانتے ہیں، یا پھر ایک طویل اور مہنگی علاقائی جنگ جو اپنے تزویراتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔
ٹرمپ کی عبوری ٹیم نے تاحال اس مجوزہ منصوبے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔ تاہم، صدرِ منتخب کے قریبی مشیروں نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی حکمتِ عملی کا محور ایرانی حکومت کی غیر ملکی کرنسی کے ذرائع کو ‘بھوکا رکھنا’ ہے تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ حکمتِ عملی موجودہ پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد پر منحصر ہے، خاص طور پر چین کو ہونے والی ایرانی تیل کی برآمدات کو نشانہ بنا کر۔
یہ کشیدگی بدلتے ہوئے اتحادوں کے تناظر میں بڑھ رہی ہے۔ 2018 کے برعکس، ایران نے اب روس اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کر لیا ہے، جو اسے مغربی تنہائی کے خلاف ایک مالی اور سیاسی ڈھال فراہم کرتے ہیں۔ مشرقی منڈیوں تک اس رسائی نے امریکی پابندیوں کے اثرات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے، جس سے تہران کو ماضی کی نسبت زیادہ سیاسی گنجائش ملی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی انتباہ جتنا واشنگٹن کے لیے ہے، اتنا ہی ملکی سطح پر اپنے عوام اور اتحادیوں کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے بھی ہے۔ حکومت اس بیانیے کے ذریعے یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ کسی بھی تصادم کے لیے تیار ہے۔
وائٹ ہاؤس کا اگلا قدم اگلے چار برسوں تک مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا تعین کرے گا۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ کسی ‘برے سمجھوتے’ کی طرف جاتی ہے تو اسے اپنی ہی پارٹی کے سخت گیر حلقوں کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر وہ فوجی راستہ اختیار کرتے ہیں تو یہ ایک ایسی علاقائی الجھن کا باعث بن سکتا ہے جس سے بچنے کا وعدہ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں بار بار کر چکے ہیں۔
فی الحال، یہ تعطل محض تاثرات کا کھیل ہے۔ تہران اس بات پر شرط لگائے بیٹھا ہے کہ جنگ کی قیمت واشنگٹن کے لیے بہت زیادہ ہے، جبکہ امریکہ اس امید پر ہے کہ تنہائی کی قیمت تہران کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوگی۔
