تہران — ایران کے وسطی سطح مرتفع کے خشک اور پتھریلے علاقوں میں نصب کیمروں نے ایک ایسی تصویر قید کی ہے جو ماہرینِ حیاتیات کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہ ایشیائی چیتے کی ایک نایاب جھلک ہے، جو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پورا ملک علاقائی جنگی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی لپیٹ میں ہے۔ ایشیا کا یہ نایاب چیتا، جو کبھی بحیرہ روم سے لے کر برصغیر تک پایا جاتا تھا، اب ایران کے چند محفوظ علاقوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ جنگلی حیات کے ماہرین کا تخمینہ ہے کہ دنیا بھر میں اب ان کی تعداد 20 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ہر نئی تصویر ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ جانور اس وقت معدومیت کے دہانے پر کھڑا ہے۔ تاہم، ان چیتوں کی بقا کے لیے خطرات صرف قدرتی نہیں رہے۔ ایران کے موجودہ جغرافیائی اور سیاسی حالات نے ان کے لیے مسائل بڑھا دیے ہیں۔ ملک کی تمام تر توجہ دفاعی اخراجات اور علاقائی محاذ آرائی پر مرکوز ہے، جس کی قیمت قدرتی وسائل کے تحفظ کے بجٹ کو چکانا پڑ رہی ہے۔ جس زمین کو چیتوں کے لیے محفوظ کیا جانا چاہیے تھا، وہاں اب کان کنی اور صنعتی سرگرمیوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تہران کے ایک ماہرِ حیاتیات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم دراصل بھوتوں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ حکومت چیتے کو قومی فخر کی علامت تو قرار دیتی ہے، مگر عملی طور پر ان کی حفاظت یا زمین کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس بجٹ موجود نہیں۔ یہ صرف دکھاوے کی کنزرویشن ہے۔” مقامی این جی اوز کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تصاویر میں ‘توران بائیو اسفیئر ریزرو’ میں ایک صحت مند نر چیتے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر ایک امید تو جگاتی ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایک چیتے کا نظر آنا آبادی کی بحالی کی ضمانت نہیں۔ یہ نسل جینیاتی طور پر اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ اگر ان کے مسکن کو مکمل تحفظ بھی دیا جائے، تب بھی ان کی بقا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سرکاری بیانات اور زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سرکاری میڈیا میں تو ‘ایرانی چیتے’ کو قومی وقار کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن محکمہ ماحولیات کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ وہ غیر قانونی شکار کو روکنے کے لیے گشت کا نظام برقرار رکھ سکے۔ بین الاقوامی پابندیاں اور جنگی اخراجات کے بوجھ نے ماحولیاتی تحفظ کو ترجیحات کی فہرست میں سب سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ ایک ایسی نسل کے لیے جو معدومیت کے کنارے کھڑی ہو، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ انہی زمینوں پر پناہ لیے ہوئے ہے جنہیں ریاست اب تنازعات کے لیے تیار کر رہی ہے۔ کیا یہ جانور انسانی کشیدگی اور جنگی جنون کے اس دور میں زندہ رہ پائیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کوئی نہیں جانتا۔ جب تک ریاست اپنی ترجیحات میں جنگی معیشت کے بجائے ان قدرتی راہداریوں کے تحفظ کو شامل نہیں کرتی، ایشیائی چیتا صرف اس بات کی علامت رہے گا کہ ایران کیا کچھ کھونے کے قریب ہے۔
