انجلینا جولی کی 19 سالہ صاحبزادی زہرا جولی پِٹ نے اس ہفتے ایک نادر عوامی موقع پر اپنی والدہ کے بارے میں کھل کر بات کی، جس نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ سپلمین کالج کی ایک تقریب کے دوران زہرا نے اسٹیج پر انجلینا جولی کا تعارف کرواتے ہوئے جس اعتماد کا مظاہرہ کیا، وہ ان لوگوں کے لیے غیر متوقع تھا جو اس خاندان کی نجی زندگی میں حد درجہ رازداری کے عادی ہیں۔ زہرا نے کوئی گھسا پٹا یا میڈیا کے لیے تیار کردہ بیان نہیں دیا، بلکہ ان کا انداز ذاتی اور جذباتی تھا، جس میں کیمروں کی چکا چوند سے دور ماں اور بیٹی کے رشتے کی جھلک نظر آئی۔ یہ تبصرے جولی-پِٹ خاندان کے لیے ایک پیچیدہ وقت میں سامنے آئے ہیں۔ بریڈ پِٹ سے علیحدگی کے بعد جاری قانونی تنازعات اور میڈیا کی شدید جانچ پڑتال کے درمیان، بچوں کی جانب سے والدہ کا کسی بھی عوامی فورم پر ذکر انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ زہرا کا اپنی والدہ کے بارے میں گرم جوشی سے بات کرنا ان قیاس آرائیوں کے برعکس ہے جو اکثر اس خاندان کے بکھرنے کے بارے میں کی جاتی ہیں۔ انجلینا جولی، جنہوں نے گزشتہ ایک دہائی کا عرصہ اپنی شادی کے ٹوٹنے کے اثرات سے نمٹنے میں گزارا ہے، کے لیے یہ عوامی اعتراف کافی معنی خیز رہا۔ جولی ہمیشہ یہ کہتی آئی ہیں کہ ان کی اولین شناخت ایک ماں کی ہے، اداکارہ کی نہیں۔ اپنی بیٹی کو اتنے اعتماد کے ساتھ ان کے بارے میں بات کرتے دیکھنا خود انجلینا جولی کے لیے بھی ایک جذباتی لمحہ تھا۔ سپلمین کالج کی طالبہ زہرا، جو عموماً اپنے بہن بھائیوں کے برعکس میڈیا کی روشنیوں سے دور رہتی ہیں، نے اس پلیٹ فارم کا انتخاب اپنی زندگی پر والدہ کے گہرے اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے کیا۔ انہوں نے جولی کی ہمت کا تذکرہ ایک ایسی ماں کے طور پر کیا جس نے طوفانی حالات میں بھی اپنے خاندان کو متحد رکھا۔ تقریب میں موجود شرکاء نے اس بات کو نوٹ کیا کہ وہاں کوئی پبلک ریلیشنز (PR) ٹیم موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے یہ لمحہ بناوٹی پن سے پاک اور خالص محسوس ہوا۔ یہ کسی قسم کی برانڈ بلڈنگ کی کوشش نہیں تھی، بلکہ ایک بیٹی کا اپنی ماں کے لیے احترام کا اظہار تھا۔ اگرچہ میڈیا اب بھی اس خاندان کی دیواروں میں دراڑیں ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے، لیکن زہرا کے الفاظ بتاتے ہیں کہ ان کے نزدیک خاندانی رشتہ تمام تر افواہوں سے زیادہ اہم ہے۔ جولی-پِٹ خاندان کے گھر کے باہر کا شور چاہے کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، لیکن اندرونی طور پر توجہ ان معاملات پر ہے جو سرخیاں بننے کی بجائے ان کے اپنے مستقبل سے جڑے ہیں۔
