نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہونے والے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے بانی نے الزام لگایا ہے کہ سیاسی اور سماجی طنز پر مبنی مواد وائرل ہونے کے بعد اس اکاؤنٹ کو دباؤ، بندش اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ اکاؤنٹ کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے چلایا جا رہا تھا، جس کے بانی ابھیجیت دپکے ہیں۔ اکاؤنٹ نے بے روزگاری، مہنگائی، امتحانی پرچوں کے افشا ہونے، صنفی مساوات، ذرائع ابلاغ کی آزادی اور نوجوانوں کے دیگر مسائل پر طنزیہ انداز میں تحریریں شیئر کیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اکاؤنٹ چند دنوں میں انسٹاگرام پر 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جس کے بعد یہ بھارت کے ڈیجیٹل حلقوں میں تیزی سے زیر بحث آ گیا۔
ابھیجیت دپکے نے الزام لگایا کہ اکاؤنٹ کی غیر معمولی مقبولیت کے بعد اس کی ویب سائٹ بند کر دی گئی، ایکس اکاؤنٹ بھارت میں روک دیا گیا، انسٹاگرام اکاؤنٹ متاثر ہوا اور ان کے اہلخانہ کو دھمکیاں بھی ملیں۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ بھارتی حکام نے بھی ویب سائٹ یا انسٹاگرام پیج کے خلاف کسی کارروائی کی عوامی تصدیق نہیں کی۔
دپکے کے مطابق اس اکاؤنٹ کا مقصد نوجوانوں کو رسمی سیاست کے بجائے طنز، مزاح اور میمز کے ذریعے اپنی مایوسی اور خدشات بیان کرنے کا موقع دینا تھا۔ اکاؤنٹ کی پوسٹس میں Gen Z انداز کی زبان، مختصر جملے اور تیز طنز استعمال کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے یہ نوجوان صارفین میں تیزی سے مقبول ہوا۔
اس معاملے نے بھارت میں آن لائن آزادی اظہار، سیاسی طنز اور ڈیجیٹل حقوق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اکاؤنٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کی مقبولیت ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان اپنی معاشی اور سماجی پریشانیوں پر بات کرنے کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین نے اس کی تیز رفتار مقبولیت اور آن لائن سپورٹ پر سوالات اٹھائے ہیں۔
بھارتی وزیر کرن رجیجو نے اس تحریک کو اہمیت نہ دیتے ہوئے اس کے فالوورز سے متعلق سوالات اٹھائے اور اشارہ دیا کہ اس کی مقبولیت بیرونی عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے۔ دپکے نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اکاؤنٹ کے 94 فیصد فالوورز بھارت سے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت داخلہ اور آئی ٹی وزارت نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ سرکاری مؤقف سامنے نہ آنے کے باعث یہ واضح نہیں کہ اکاؤنٹ کو ریاستی کارروائی، پلیٹ فارم کی پالیسی، ہیکنگ، منظم شکایات یا ان عوامل کے امتزاج کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ معاملہ ڈیجیٹل سیاست کے ایک بڑے رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ طنزیہ مواد روایتی سیاسی مہمات کے مقابلے میں نوجوانوں تک زیادہ تیزی سے پہنچ سکتا ہے، مگر جیسے ہی ایسا مواد لاکھوں لوگوں تک پہنچتا ہے، وہ سیاسی طور پر حساس بھی بن جاتا ہے۔
فی الحال دپکے کے الزامات کی مزید تصدیق ہونا باقی ہے۔ تاہم اس تنازع نے ایک اہم سوال ضرور اٹھا دیا ہے: کیا نوجوانوں کو آن لائن اتنی جگہ حاصل ہے کہ وہ اقتدار پر تنقید کر سکیں، سیاست پر طنز کر سکیں اور اپنے مشترکہ مسائل پر آواز اٹھا سکیں؟
