سر اور گردن کے کینسر (HNSCC) کے مریضوں کے لیے طویل عرصے سے ایک سنگین طبی چیلنج موجود تھا: جب روایتی پلیٹینم بیسڈ تھراپی ناکام ہو جائے تو علاج کے متبادل راستے تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ اب ’رائبریونٹ فیسپرو‘ (amivantamab and hyaluronidase-lpuj) کے کلینیکل ڈیٹا نے اس مایوس کن صورتحال میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ یہ دوا، جسے جلد کے نیچے انجکشن کے ذریعے دیا جاتا ہے، ان مریضوں میں دیرپا طبی نتائج دکھا رہی ہے جو پہلے ہی علاج کے تمام روایتی مراحل سے گزر چکے ہیں۔
ماہرینِ آنکولوجی اگرچہ سر اور گردن کے کینسر کی جارحانہ نوعیت کے پیشِ نظر محتاط ہیں، لیکن حالیہ نتائج اس مخصوص مریضوں کی تعداد میں بقا کے امکانات کو نمایاں طور پر بہتر بناتے ہیں۔ ’امیوانٹاماب‘ (amivantamab) دراصل EGFR اور MET نامی دو پروٹینز کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ دہرا حملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ کینسر کے ان دفاعی نظاموں کو توڑ دیتا ہے جو روایتی کیموتھراپی کو بے اثر کر دیتے ہیں۔ اس فارمولیشن میں ہائیلورونیڈیس (hyaluronidase) کا اضافہ انجکشن کے عمل کو تیز اور مریض کے لیے کم تکلیف دہ بناتا ہے، جو کلینکس کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔
اس ہفتے پیش کیے گئے اعداد و شمار میں ٹرائل کے دوران ٹیومر کے سائز میں واضح کمی دیکھی گئی۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ علاج کے اثرات دیرپا رہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دوا نہ صرف شروع میں کینسر پر کاری ضرب لگاتی ہے بلکہ موجودہ متبادل علاج کے مقابلے میں اسے زیادہ دیر تک قابو میں رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ طبی دنیا برسوں سے سر اور گردن کے کینسر کے لیے کسی مؤثر پیش رفت کی منتظر تھی۔
اس شعبے میں ٹارگٹڈ تھراپی کی زیادہ تر کوششیں محدود رہی ہیں، اور اکثر ان کے ضمنی اثرات (toxicities) بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ’رائبریونٹ فیسپرو‘ کے ابتدائی حفاظتی نتائج بتاتے ہیں کہ اس کے سائیڈ ایفیکٹس قابلِ برداشت ہیں، اگرچہ محققین اب بھی جلد اور انجکشن سے متعلق ردعمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امکان ہے کہ ریگولیٹری ادارے جلد ہی ان نتائج کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
اگر بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹرائلز میں یہ پیش رفت برقرار رہتی ہے، تو یہ ریجیم ان مریضوں کے لیے نیا معیاری علاج بن سکتی ہے جن کے پاس اب تک علاج کا کوئی مؤثر راستہ نہیں تھا۔ فی الحال، یہ ڈیٹا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سر اور گردن کے کینسر کے علاج میں دہری روک تھام (dual-inhibition) کا طریقہ اب محض ایک نظریہ نہیں، بلکہ ایک قابلِ عمل طبی حقیقت بن چکا ہے۔
