واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ کے بجٹ منصوبے نے سائنس دانوں، ماہی گیروں، کشتی مالکان، ایمرجنسی اداروں اور ساحلی آبادیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت امریکا کے ایک اہم سمندری نگرانی نظام کی فنڈنگ ختم کی جا سکتی ہے۔
یہ نظام امریکا کا مربوط سمندری مشاہداتی نظام کہلاتا ہے، جو ایک قومی نیٹ ورک ہے۔ یہ نظام ساحلی پانیوں، عظیم جھیلوں اور سمندروں سے متعلق معلومات جمع اور فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد سمندری معلومات کو عوامی تحفظ، معیشت اور ماحولیات کے لیے قابلِ استعمال بنانا ہے۔
بجٹ منصوبے کے تحت سمندری ڈیٹا کی فنڈنگ کم کی جا سکتی ہے، جس سے کشتی چلانے والوں، ماہی گیروں، موسم کی پیشگوئی کرنے والے اداروں اور ایمرجنسی ٹیموں کو معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ نظام سمندری سینسرز، بوائز، ریڈار، گلائیڈرز اور علاقائی نگرانی نیٹ ورکس سے ڈیٹا حاصل کرتا ہے، جو نیویگیشن، فشریز، طوفانی صورتحال، ساحلی منصوبہ بندی اور ریسکیو آپریشنز میں مدد دیتا ہے۔
اس کے ڈیٹا پلیٹ فارم کے مطابق یہ نظام 32,000 سے زائد اسٹیشنز سے منسلک ہے، جہاں سے سمندری اور موسمی صورتحال کی تازہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
یہ مجوزہ کٹوتیاں ماحولیاتی اور سمندری تحقیقاتی پروگراموں میں بڑی تبدیلیوں کا حصہ ہیں۔ تجویز کے مطابق سمندری اور فضائی نگرانی سے متعلق ادارے کے بجٹ میں تقریباً 1.67 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 27 فیصد کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ موسمیاتی تحقیق کے شعبے بھی کٹوتیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کو ختم یا کمزور کرنے سے امریکا کی سمندری خطرات، طوفانی لہروں، ساحلی سیلاب، نقصان دہ الجی، فشریز بحران اور سمندری موسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک تحقیقی نظام نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا ایک اہم نیٹ ورک بھی ہے۔
دوسری طرف، منصوبے کے حامی اسے وفاقی اخراجات کم کرنے اور حکومتی ترجیحات بدلنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ یہ بجٹ منصوبہ موسمیاتی تحقیق سے توجہ کم کر کے توانائی اور ضابطوں میں نرمی کی پالیسیوں کو ترجیح دینے کی عکاسی کرتا ہے۔
ساحلی ریاستوں کے لیے یہ معاملہ صرف سائنسی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ ماہی گیری، شپنگ، آف شور صنعتیں اور سیاحت سے وابستہ علاقے بروقت سمندری معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر یہ ڈیٹا متاثر ہوا تو سمندری سرگرمیاں زیادہ خطرناک اور مہنگی ہو سکتی ہیں۔
یہ تجویز ابھی حتمی نہیں ہے اور اسے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ تاہم اس نے واشنگٹن میں ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سمندری اور موسمی نگرانی کو عام تحقیقی خرچ سمجھا جائے یا قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ۔
ماہرین کے مطابق جب موسمیاتی تبدیلی، سمندری سطح میں اضافہ اور شدید طوفانوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں، ایسے وقت میں سمندری نگرانی کے نظام کو کمزور کرنا امریکا کو مستقبل کے خطرات کے مقابلے میں کم تیار کر سکتا ہے۔
