پاکستان میں پہلی بار منعقد ہونے والے قومی سطح کے آئی ٹی مہارتوں کے امتحان، نیشنل اسکل کمپٹینسی ٹیسٹ (NSCT)، میں 33 ہزار سے زائد طلبہ نے حصہ لیا، جسے ملک کے آئی ٹی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ امتحان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طلبہ کی عملی صلاحیتوں کو جانچنے اور انہیں صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے مقصد سے منعقد کیا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 40,784 طلبہ نے امتحان کے لیے رجسٹریشن کروائی، جن میں سے 33,038 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے۔ یہ کمپیوٹر بیسڈ امتحان اپریل 2026 میں ملک بھر کے 112 شہروں میں قائم 165 امتحانی مراکز پر بیک وقت منعقد کیا گیا، جبکہ 190 سے زائد جامعات نے اس میں حصہ لیا۔
یہ اقدام حکومت پاکستان کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ایک اسٹیئرنگ کمیٹی کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، جس میں Higher Education Commission، Ministry of Information Technology and Telecommunication، Pakistan Software Export Board، P@SHA اور Virtual University of Pakistan سمیت مختلف اداروں کے نمائندے شامل تھے۔
امتحان کا مقصد آئی ٹی گریجویٹس کی صلاحیتوں کا معیاری جائزہ لینا، جامعات اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانا اور ایک قومی سطح کا تصدیق شدہ آئی ٹی ٹیلنٹ پول تشکیل دینا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس جیسے جدید شعبوں میں افرادی قوت کی تیاری میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امتحان پاکستانی آئی ٹی گریجویٹس کی مہارتوں کے لیے ایک قومی معیار قائم کرنے کی جانب اہم قدم ہے، جس سے نہ صرف نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی آئی ٹی ٹیلنٹ پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔
