پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) نے وفاقی بجٹ میں ہیلتھ سیکٹر پر ٹیکس فریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے نئے مجوزہ اقدامات کی سخت مخالفت کی ہے۔
PMA کے مطابق پاکستان کا صحت کا نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں ادویات، طبی آلات اور ہسپتالوں کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں مزید ٹیکس عائد کرنا نہ صرف ڈاکٹرز اور ہسپتالوں بلکہ عام مریضوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا۔
اپنے بیان میں PMA نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے اور صحت کے شعبے کو ریلیف دیا جائے تاکہ عوام کو سستی اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اہم خدشات میں شامل ہیں:
- علاج معالجے اور ہسپتال کے اخراجات میں اضافہ
- ڈاکٹرز، کلینکس اور اسپتالوں پر مالی دباؤ
- مریضوں کے لیے علاج مزید مہنگا ہونے کا خطرہ
- صحت کی سہولیات تک رسائی میں کمی کا امکان
PMA کا کہنا ہے کہ صحت کا شعبہ ایک بنیادی اور ضروری شعبہ ہے، اس لیے اسے اضافی ٹیکسوں سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) مبینہ طور پر بجٹ میں ریونیو بڑھانے کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہا ہے، تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی اصلاحات عوامی صحت کے نقصان پر نہیں ہونی چاہئیں۔
ماہرین صحت اور اسٹیک ہولڈرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسا متوازن بجٹ بنایا جائے جس میں آمدن میں اضافہ بھی ہو اور عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات بھی متاثر نہ ہوں۔
