کراچی: مبینہ منشیات فروش Anmol alias Pinky کی جیل سے لی گئی تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے کے بعد ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جبکہ اس ہائی پروفائل مقدمے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی تصاویر میں مبینہ طور پر انمول پنکی کو عدالتی تحویل کے دوران دیکھا جا سکتا ہے۔ تصاویر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوئیں جہاں صارفین نے ان پر تبصرے اور مختلف آراء کا اظہار کیا۔
انمول پنکی کو گزشتہ ماہ کراچی میں ایک انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ وہ ایک وسیع منشیات نیٹ ورک سے منسلک تھی جو ملک کے مختلف بڑے شہروں میں سرگرم تھا۔ حکام کے مطابق اس کے خلاف منشیات سمیت متعدد مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔
گرفتاری کے بعد سے یہ کیس مسلسل عوامی توجہ حاصل کرتا رہا ہے۔ خصوصاً عدالت میں پیشی کے دوران سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر نے سوشل میڈیا پر کافی بحث کو جنم دیا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔
عدالتی کارروائی کے دوران مختلف مقدمات میں جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت نے انمول پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا جبکہ تفتیشی اداروں کو تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
جیل سے منسوب نئی تصاویر سامنے آنے کے بعد کیس ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین تصاویر کے مختلف پہلوؤں پر تبصرے کر رہے ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تصاویر کی تصدیق یا ان کے ذرائع کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد کی تصاویر کے منظر عام پر آنے سے رازداری، سیکیورٹی اور جیل قوانین سے متعلق سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی اور کسی بھی ملزم کو قانونی کارروائی مکمل ہونے سے قبل مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حکام کی جانب سے کیس کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ آئندہ سماعتوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
