واشنگٹن:
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا ہے، جہاں آئندہ انتخابات سے قبل اہم پالیسی معاملات اور سیاسی حکمت عملی پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق کچھ ارکانِ کانگریس اب کھل کر یا اندرونی طور پر ٹرمپ کے اثر و رسوخ اور فیصلوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس صورتحال کو بعض مبصرین نے “ابتدائی اختلافی رجحانات” (Embryonic Spines) قرار دیا ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پارٹی کے اندر اس تقسیم کی عکاسی کرتی ہے جو ٹرمپ کے حامیوں اور روایتی قدامت پسند مؤقف رکھنے والے اراکین کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ اب بھی بڑی تعداد میں ووٹرز کی حمایت رکھتے ہیں، لیکن کچھ رہنما حکومتی انداز، انتخابی حکمت عملی اور قانون سازی کے معاملات پر اختلافات ظاہر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بڑی سیاسی جماعتوں میں اس قسم کی اندرونی کشمکش عام بات ہے، خاص طور پر انتخابی موسم میں، لیکن اگر اختلافات بڑھیں تو یہ پارٹی کی یکجہتی اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اس کے باوجود ٹرمپ امریکی ریپبلکن سیاست میں ایک مرکزی شخصیت کے طور پر برقرار ہیں اور کئی رہنما اب بھی ان کی پالیسیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
