سائنسدان ایسے انتہائی نایاب افراد کا مطالعہ کر رہے ہیں جن میں ایچ آئی وی (HIV) وائرس کے خلاف قدرتی مزاحمت پائی جاتی ہے، جو مستقبل میں اس بیماری کے علاج یا ممکنہ علاج کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کچھ افراد کے جسم میں جینیاتی تبدیلیاں یا مضبوط مدافعتی نظام موجود ہوتا ہے جو ایچ آئی وی وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے یا پھیلنے سے روکتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ معروف تبدیلی CCR5-delta 32 جین سے منسلک ہے، جو وائرس کے داخلے کا راستہ بند کر دیتی ہے۔
تحقیق کار ان افراد کے مدافعتی نظام کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ان کی جسمانی ساخت وائرس کو کیسے روکتی ہے۔ اس معلومات کی مدد سے نئی ادویات، ویکسین اور ممکنہ علاج تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان قدرتی طور پر محفوظ افراد کے حیاتیاتی طریقہ کار کو سمجھ لیا جائے تو ایچ آئی وی کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے، جو عالمی سطح پر لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگی۔
