اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 12 جون کو قومی اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے، جس میں آئندہ سال کے لیے حکومت کی معاشی ترجیحات، محصولات کے اہداف اور ترقیاتی منصوبوں کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ کا محور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے، اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور مختلف شعبوں کو سہولتیں فراہم کرنے پر ہوگا۔ حکومت ایک ایسی مالی حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہے جس کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں وزارتِ خزانہ نے تاجروں، صنعت کاروں، ماہرینِ معیشت اور مختلف کاروباری تنظیموں سے مشاورت کی ہے۔ ان تجاویز کو بجٹ دستاویز کا حصہ بنانے کے لیے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معاشی پالیسیوں کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اقتصادی شرح نمو، مہنگائی، محصولات کی وصولی اور ترقیاتی اخراجات کے اہداف بھی مقرر کیے جائیں گے۔ برآمدات میں اضافے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے سے متعلق اقدامات کو بھی خصوصی اہمیت دیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب حکومت معیشت میں استحکام کے حالیہ اشاریوں کو برقرار رکھنے اور مہنگائی، قرضوں کے بوجھ اور مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق آئندہ بجٹ حکومت کی معاشی سمت اور اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم عکاس ہوگا۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد بجٹ پر بحث کی جائے گی، جس کے بعد اسے منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ منظوری کے بعد نئے مالی سال کا آغاز یکم جولائی سے ہوگا اور بجٹ میں شامل ٹیکس و مالیاتی اقدامات نافذ العمل ہو جائیں گے۔
معاشی حلقے، سرمایہ کار اور کاروباری برادری بجٹ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں کیونکہ اسے آئندہ مالی سال میں ملکی معیشت کی سمت متعین کرنے والی اہم دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔
