بحرالکاہل کی چھوٹی جزیرہ نما ریاستیں ایک بار پھر ایسے معاشی دباؤ میں گھرتی دکھائی دے رہی ہیں جہاں حکومتوں کو بہت مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں: کیا مہنگا ایندھن خرید کر بجلی، ٹرانسپورٹ اور بنیادی خدمات جاری رکھی جائیں، یا بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے دیا جائے، جس کے نتیجے میں خوراک، سفر اور روزمرہ زندگی مزید مہنگی ہو جائے؟ ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والی بے چینی نے ان ممالک کی کمزور سپلائی لائنز اور درآمدی انحصار کو پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ان ریاستوں کے لیے مسئلہ صرف پٹرول یا ڈیزل کی قیمت بڑھنے تک محدود نہیں۔ بحرالکاہل کے کئی ممالک میں ڈیزل ہی بجلی گھروں کو چلاتا ہے، سرکاری اور نجی ٹرانسپورٹ اسی پر منحصر ہے، اور دور دراز جزیروں تک سامان پہنچانے والی شپنگ بھی اسی لاگت سے متاثر ہوتی ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر فوراً خوراک کی قیمتوں، بجلی کے نرخوں، ٹرانسپورٹ کرایوں اور گھریلو اخراجات پر پڑتا ہے۔
خطے کے حکام اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ممالک پہلے ہی نازک معاشی ڈھانچے، محدود ذخائر اور مہنگی درآمدات کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ اسی لیے عالمی منڈی میں معمولی سا جھٹکا بھی ان کے لیے بہت بڑا بحران بن سکتا ہے۔ بڑے ممالک کی نسبت ان کے پاس نہ تو زیادہ مالی گنجائش ہوتی ہے اور نہ ہی متبادل سپلائی ذرائع۔
اس دباؤ کی ایک واضح مثال تووالو میں دیکھی گئی، جہاں ایندھن کی قلت سے بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس طرح کے واقعات یہ دکھاتے ہیں کہ بیرونی جنگ یا عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کس تیزی سے ایک مقامی انسانی اور انتظامی بحران میں بدل سکتا ہے۔ کچھ دوسری ریاستوں میں بھی حکومتیں ہنگامی منصوبہ بندی، راشننگ اور اخراجات پر نظرثانی پر مجبور ہو رہی ہیں۔
خوراک کا معاملہ شاید اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ بحرالکاہل کے کئی چھوٹے ممالک اپنی بنیادی غذائی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ جب شپنگ مہنگی ہوتی ہے اور ایندھن کی قیمت اوپر جاتی ہے تو بازار میں آٹا، چاول، ڈبہ بند اشیا، منجمد خوراک اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی بڑھنے لگتی ہیں۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ دباؤ کم آمدنی والے گھرانوں پر پڑتا ہے، کیونکہ ان کے لیے روزمرہ اشیائے خورونوش پہلے ہی بجٹ کا بڑا حصہ ہوتی ہیں۔
حکومتوں کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے سبسڈی دیں، ایندھن کے ذخائر کو ترجیحی بنیاد پر مخصوص شعبوں کے لیے مختص کریں، یا بین الاقوامی شراکت داروں سے مدد مانگیں۔ مگر ان تینوں راستوں کی اپنی قیمت ہے۔ سبسڈی سے سرکاری خزانے پر دباؤ بڑھتا ہے، راشننگ سے کاروبار اور معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں، اور بیرونی امداد پر انحصار سیاسی و معاشی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔
اس بحران نے ایک بڑی حقیقت دوبارہ سامنے لا دی ہے: بحرالکاہل کی یہ چھوٹی ریاستیں بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں غیرمعمولی حد تک کمزور ہیں۔ کبھی موسمیاتی آفات، کبھی شپنگ میں رکاوٹیں، اور اب جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ۔ ان سب نے یہ واضح کیا ہے کہ ان ممالک کی معیشتیں معمولی عالمی تبدیلیوں سے بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دوسرے علاقائی شراکت دار اب اس بحث میں زیادہ سنجیدگی سے شامل دکھائی دیتے ہیں کہ اگر بحران طول پکڑتا ہے تو بحرالکاہل کے لیے ایندھن کی فراہمی اور بنیادی اشیا کی ترسیل کیسے یقینی بنائی جائے۔ لیکن فی الحال، ان چھوٹے ممالک کے لیے مسئلہ نہایت سادہ اور سخت ہے: یا تو بڑھتی ہوئی لاگت برداشت کریں، یا عوام کو مہنگائی، قلت اور ممکنہ اقتصادی بحران کے لیے تیار کریں۔
یہی وہ کڑا انتخاب ہے جس کا سامنا آج بحرالکاہل کی چھوٹی ریاستیں کر رہی ہیں۔
