دادو — سندھ کے ضلع دادو میں گرمی کی شدت میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے، جہاں بدھ کے روز درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اس شدید گرمی نے شہر کو ملک کا گرم ترین مقام بنا دیا ہے۔
دوپہر ہوتے ہی شہر کی سڑکیں ویران ہو گئیں۔ معمول کے مطابق گہما گہمی والے بازاروں میں سناٹا چھا گیا اور شہریوں نے تپتی دھوپ سے بچنے کے لیے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔
مقامی دکاندار محمد علی نے دوپہر سے قبل ہی اپنی دکان بند کرتے ہوئے کہا، "ہوا کسی بھٹی کی طرح گرم محسوس ہو رہی ہے۔ پانچ منٹ بھی باہر کھڑے رہیں تو سر چکرانے لگتا ہے۔”
محکمہ موسمیات نے اس صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرمی کی یہ لہر آئندہ 48 گھنٹوں تک سندھ کے بالائی علاقوں میں برقرار رہے گی۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق صوبے کے اوپر بننے والے ہائی پریشر کے نظام نے گرم ہواؤں کو قید کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے ساحلی علاقوں سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں کا راستہ رک گیا ہے۔
دوسری جانب مقامی ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور نقاہت کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دادو میں ہیٹ اسٹروک وارڈ قائم کر دیا گیا ہے، تاہم طبی عملے کا کہنا ہے کہ وسائل محدود ہیں۔
ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا، "ہمارے پاس شدید ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ کرائمپس کے مریض آ رہے ہیں۔ بزرگ اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ہم عوام کو بار بار مشورہ دے رہے ہیں کہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک براہِ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔”
دادو کے رہائشیوں کے لیے یہ صرف ایک موسمی رپورٹ نہیں بلکہ روزمرہ کی سخت آزمائش ہے۔ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث گھروں میں پنکھے اور کولنگ سسٹم بھی بے اثر ہو چکے ہیں۔
