تفتیشی اداروں نے منشیات فروشی کے ملزم انمول کے موبائل فون سے 100 گیگا بائٹس سے زائد ڈیٹا اور 75 ہزار تصاویر بازیاب کر لی ہیں۔ یہ ڈیجیٹل مواد ملزم کے وسیع نیٹ ورک کا ایک ایسا نقشہ ثابت ہو سکتا ہے جس نے اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ کر کام کرنے والے سپلائرز اور اہم گاہکوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
فارنزک ماہرین کو اس انکرپٹڈ ڈیوائس تک رسائی حاصل کرنے میں کئی ہفتوں کی محنت درکار ہوئی۔ سیکیورٹی کی متعدد تہیں توڑ کر حاصل کیا گیا یہ ڈیٹا اب استغاثہ کے لیے سب سے بڑا ثبوت بن چکا ہے۔
پولیس کے لیے تصاویر کی یہ بھاری تعداد ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ محض عام تصاویر نہیں، بلکہ ایک مکمل ریکارڈ ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ موجود میٹا ڈیٹا—جس میں وقت، تاریخ اور جی پی ایس لوکیشن شامل ہے—تفتیش کاروں کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ملزم شہر میں کن کن مقامات پر سرگرم رہا۔ کئی تصاویر میں منشیات چھپانے کے خفیہ ٹھکانے اور لین دین کے وہ طریقے ریکارڈ ہیں جن کا سراغ لگانا پہلے ممکن نہیں تھا۔
اس آپریشن سے منسلک ایک تفتیشی افسر کا کہنا ہے، "یہ صرف منشیات کی برآمدگی کا معاملہ نہیں ہے۔ ہم اب پورے سپلائی چین کا نقشہ بنا رہے ہیں۔ ہمارے پاس نام بھی ہیں، مقامات بھی اور ایک سال پر محیط مکمل ٹائم لائن بھی موجود ہے۔”
ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ اپنی ترسیلات کے لیے خفیہ میسجنگ ایپس کا استعمال کرتا تھا۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد فون کا پاس ورڈ دینے سے انکار کیا تھا، لیکن سائبر کرائم یونٹ کی جدید ٹیکنالوجی نے اس کی خاموشی کو بے اثر کر دیا ہے۔
ملزم کے وکلاء کی جانب سے ابھی تک اس ڈیجیٹل شواہد پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ استغاثہ کے پاس اب اتنا مواد موجود ہے کہ وہ نچلی سطح کے کارندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں پورے نیٹ ورک کے خلاف گواہ بنا سکتے ہیں۔
تفتیش اب تجزیاتی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پولیس فون سے ملنے والی کانٹیکٹ لسٹ کو پڑوسی اضلاع میں زیرِ التوا مقدمات سے مماثلت دے رہی ہے۔ مقصد صرف ایک ہے: فون کے ذریعے نہ صرف ملزم، بلکہ اس کے پورے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا۔
