ویٹنام کے صوبے بین ترے میں پولیس نے ایک ٹرک سے 300 سے زائد بلیوں کو بازیاب کروا کر انہیں غیر قانونی گوشت کی منڈیوں تک پہنچنے سے روک دیا۔ حکام نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے جمعہ کے روز اس ٹرک کو روکا، جہاں بلیاں زنگ آلود اور تنگ پنجروں میں ٹھونس کر رکھی گئی تھیں۔
بازیاب ہونے والی زیادہ تر بلیاں پالتو تھیں جو مختلف محلوں سے چوری کی گئی تھیں۔ ان میں سے کئی بلیوں کے گلے میں پٹے اب بھی موجود تھے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کاروبار کس طرح مقامی گھرانوں کے پالتو جانوروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘فور پاز’ نے ریسکیو آپریشن میں مدد فراہم کی۔ تنظیم کے مطابق، بلیاں شدید پانی کی کمی، تھکن اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ اگرچہ ویٹنام میں کتے اور بلی کے گوشت کی کھپت پر مکمل پابندی نہیں ہے، تاہم بغیر ہیلتھ سرٹیفکیٹ اور دستاویزات کے جانوروں کی نقل و حمل اور ذبیحہ قانوناً جرم ہے۔
بازیاب ہونے والی بلیوں کو فوری طور پر مقامی ویٹرنری سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ طبی ٹیمیں انہیں ویکسین لگا رہی ہیں، تاہم صورتحال تاحال تشویشناک ہے۔ ٹرانسپورٹ کے دوران شدید دباؤ اور حالات کے باعث چند بلیاں ریسکیو کے فوری بعد ہلاک ہو گئیں۔
تنظیم کے ایک ترجمان نے کہا کہ "یہ بلیاں ان خاندانوں سے چوری کی گئی ہیں جو شاید اب بھی ان کی تلاش میں ہوں گے۔ اس سپلائی چین میں چھپی سفاکی کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔”
خطے میں اس تجارت پر عوامی غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ جہاں ویٹنام کی نوجوان نسل پالتو جانوروں کے گوشت کے استعمال پر مکمل پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے، وہیں یہ مکروہ دھندہ اب بھی خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے جاری ہے۔
پولیس نے ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام نے تاحال ملزم کے خلاف عائد ہونے والی مخصوص دفعات کا اعلان نہیں کیا، تاہم اس واقعے نے چوری شدہ پالتو جانوروں کی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات کو مزید تیز کر دیا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں اب ان بلیوں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ان میں سے کچھ کو ان کے اصل مالکان سے ملایا جا سکے۔
