جدہ — سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل اور سماجی بہبود نے قویٰ پلیٹ فارم کے ذریعے فوری ورک ویزوں کے اجرا کے لیے نئے قوانین اور ضوابط کا اعلان کیا ہے۔ ان نئی اصلاحات کا مقصد غیر ملکی افرادی قوت کی بھرتی کو آسان بنانا اور ساتھ ہی نجی شعبے میں مقامی افراد کو روزگار دینے (سعودائزیشن) کے ہدف کو یقینی بنانا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق دو سال سے کم عرصے سے قائم نئے کاروباری اداروں اور اسٹارٹ اپس کو زیادہ سے زیادہ 5 فوری ورک ویزے جاری کیے جائیں گے۔ ایسے ادارے جنہیں قائم ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے، وہ ایک ہی درخواست یا ایک ہفتے کے دوران مختلف درخواستوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ 50 فوری ورک ویزے حاصل کر سکتے ہیں۔ ابتدائی پروگرام کے تحت رجسٹرڈ کمپنیوں کو پہلے مرحلے پر 2 ویزے ملیں گے، جن میں مقامی افرادی قوت کی شرح بڑھانے کی صورت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
وزارت نے غیر ملکی ملازمین کی بھرتی کے لیے 10 لازمی شرائط مقرر کی ہیں جن پر پورا اترنا ضروری ہے:
-
کاروباری حیثیت: کمپنی کا مکمل فعال ہونا، تمام موجودہ ملازمین کے پاس جائز ورک پرمٹ ہونا اور کمپنی کا کمرشل رجسٹریشن (سجل تجاری) درست ہونا لازمی ہے۔
-
سعودائزیشن اور تنخواہوں کا نظام: کمپنی کا سعودائزیشن پروگرام کے تحت ‘میڈیم گرین’ یا اس سے اوپر کے زمرے میں ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی قانونِ تحفظِ اجرت پر مکمل عملدرآمد کر رہی ہو اور اس پر لیبر قوانین کی کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔
-
ڈیجیٹل اور مالیاتی شرائط: وزارتِ داخلہ کے پورٹلز ‘ابشر’ اور ‘مقیم’ پر کمپنی کا کریڈٹ بیلنس ہونا چاہیے، سالانہ خود تشخیصی عمل مکمل ہو اور قویٰ پلیٹ فارم پر ملازمین کے کام کی جگہ رجسٹرڈ ہو۔ آجر کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے۔
قویٰ پلیٹ فارم کے مطابق نئے نظام کے تحت آجر تین اقسام کے ورک ویزوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ان میں طویل مدتی ملازمت کے لیے مستقل ورک ویزا، تین ماہ تک کے مختصر معاہدوں کے لیے عارضی ورک ویزا، اور حج و عمرہ کے سیزن کے لیے مخصوص موسمی ورک ویزا شامل ہے جو وزارت کی خصوصی منظوری سے مشروط ہے۔
