پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو باقاعدہ خط لکھ دیا ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے یہ قدم اس دیرینہ آبی تنازعے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
ماضی میں دونوں ممالک اپنے آبی تنازعات کے حل کے لیے ’مستقل سندھ طاس کمیشن‘ کے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ تاہم، اب اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ دو طرفہ مذاکرات کے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ اس خط میں خاص طور پر کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیر پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جنہیں پاکستان معاہدے کی روح کے منافی قرار دیتا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کی جانب سے بھیجے گئے اس مراسلے میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا نوٹس لے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ان ڈیموں کا ڈیزائن دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے بہاؤ کو محدود کرتا ہے، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
دوسری جانب، نئی دہلی ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔ بھارت کا اصرار ہے کہ یہ پن بجلی منصوبے عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے 1960 کے معاہدے کی تکنیکی حدود کے اندر ہیں۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اپنے حصے کے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے حق کا استعمال کر رہا ہے اور ڈیزائن میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں کی گئی جو معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔
سندھ طاس معاہدہ، جسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے، تین جنگوں کے باوجود قائم رہا ہے۔ معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس، ستلج) پر بھارت اور مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب) پر پاکستان کو پانی کے حقوق حاصل ہیں۔ موجودہ تعطل اس بات پر ہے کہ آیا بھارت کے ‘رن آف دی ریور’ منصوبے مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کے حق کو متاثر کر رہے ہیں یا نہیں۔
یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ بات چیت کا عمل برسوں سے منجمد ہے۔ سلامتی کونسل کو خط لکھ کر پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی فورم پر لانا چاہتا ہے، جبکہ بھارت ہمیشہ سے اس مسئلے کو دو طرفہ مذاکرات تک محدود رکھنے کا حامی رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے میں کس حد تک کردار ادا کرے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔ کونسل عام طور پر ایسے تکنیکی آبی تنازعات میں مداخلت سے گریز کرتی ہے اور اسے معاہدے میں درج طریقہ کار کے مطابق عالمی بینک یا غیر جانبدار ماہرین کے سپرد کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔
فی الحال، اس خط نے یہ پیغام ضرور دے دیا ہے کہ اسلام آباد اب خاموشی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ جیسے جیسے خطے میں موسمیاتی تبدیلیاں پانی کی دستیابی کو متاثر کر رہی ہیں، سندھ طاس کا تنازعہ تکنیکی دفاتر سے نکل کر عالمی سفارت کاری کے اہم ترین ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔
