کراچی: Federation of Pakistan Chambers of Commerce and Industry (ایف پی سی سی آئی) کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملکی معاشی ترقی کے ثمرات کو متاثر کر سکتی ہے اگر آبادی اور انسانی ترقی سے متعلق مؤثر پالیسیاں اختیار نہ کی گئیں۔
کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک نے بعض معاشی اشاریوں میں بہتری حاصل کی ہے، لیکن آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث ترقی کے فوائد عوام تک مکمل طور پر منتقل نہیں ہو پائیں گے۔ ان کے مطابق صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار کے شعبوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر روزگار کے مواقع، پیداواری صلاحیت اور وسائل کے مؤثر استعمال میں اضافہ نہ کیا گیا تو معاشی ترقی کی رفتار مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔
ایف پی سی سی آئی کے نمائندوں نے انسانی وسائل کی ترقی، فنی تعلیم اور صحت کی سہولیات میں سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ انہیں مناسب تعلیم اور مواقع فراہم کیے جائیں۔
ماہرین کے مطابق پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ آبادی میں اضافے اور دستیاب وسائل کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے تاکہ ملک طویل مدتی اقتصادی استحکام اور خوشحالی حاصل کر سکے۔
