قاہرہ / اسلام آباد — پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اتوار 21 جون 2026 کو قاہرہ میں منعقدہ ‘ریجنل فور’ (R-4) کے اہم اجلاس کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘اسلام آباد امن معاہدے’ (MoU) کا شاندار خیرمقدم کیا ہے۔
یہ اہم سفارتی بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہوئی جب اسی دن پاکستان اور شریک ثالث قطر کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے مقام پر امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان تکنیکی اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات جاری تھے تاکہ معاہدے کی آخری تفصیلات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، چاروں ممالک نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارتی راستوں اور عالمی سپلائی چین کو لاحق خطرات سے بچانے کے لیے ایک تعمیری قدم قرار دیا۔
اعلامیے میں اس تاریخی کامیابی کے لیے پاکستان کے کلیدی اور مصالحتی کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا، جبکہ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے قطر کی معاونت کی بھی تعریف کی گئی۔ R-4 وزرائے خارجہ نے اگلے مرحلے کے مذاکرات کو تیز کرنے پر زور دیا تاکہ خلیجی ممالک اور لیونٹ (شام و لبنان) کی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک مستقل اور قابلِ تصدیق حل نکالا جا سکے۔ اس موقع پر وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا حل ناگزیر ہے؛ انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 4 جون 1967 کی لائنز کے مطابق خود ارادیت اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
اجلاس کے بعد، پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے دیگر وزرائے خارجہ کے ہمراہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ اسحاق ڈار نے صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے مصری صدر کو تہنیتی پیغام پہنچایا۔ مصری صدر نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار کی تعریف کی اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار قاہرہ سے روانہ ہو چکے ہیں اور مدینہ منورہ میں مختصر قیام کے بعد اسلام آباد پہنچیں گے۔
