فرانس کی حکومت نے شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر ملک کے نصف سے زائد حصوں میں اسکول بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ محکمہ موسمیات ’مٹیو فرانس‘ نے 50 اضلاع کو ’ریڈ الرٹ‘ قرار دیا ہے، جس کا اطلاق جنوب مغرب سے لے کر وادیِ رون تک کے وسیع علاقوں پر ہوتا ہے۔
حکام نے یہ فیصلہ درجہ حرارت کے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے امکانات کے بعد کیا۔ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا مقصد طلبہ کو تپتی دھوپ اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات سے بچانا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ نے تمام بیرونی سرگرمیوں اور عوامی تقریبات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ لیون اور گردونواح کے رہائشیوں کو دوپہر کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق، مغربی یورپ میں ہوا کا ایک ایسا دباؤ (ہیٹ ڈوم) بن چکا ہے جو گرم ہوا کو باہر نکلنے نہیں دے رہا۔ ستمبر کے مہینے میں گرمی کی یہ شدت غیر معمولی ہے، جس نے توانائی کے نظام اور ہسپتالوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
محکمہ صحت نے بزرگ شہریوں اور ایسے افراد کے لیے خصوصی الرٹ جاری کیا ہے جو شہری مراکز میں رہائش پذیر ہیں۔ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ‘کولنگ رومز’ کھول دیے ہیں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمزور طبقے تک رسائی کو یقینی بنائے۔
اگرچہ اسکولوں کی بندش سے تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے، لیکن حکومت کی ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔ ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں اضافے کے بعد، حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہفتے کے آخر تک موسم کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پابندیوں میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور پانی کا زیادہ استعمال کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ فی الحال پورے فرانس کی نظریں موسم کی تبدیلی پر جمی ہیں، لیکن اگلے 48 گھنٹے ملک بھر کے لیے انتہائی کٹھن ثابت ہو سکتے ہیں۔
