کراچی پولیس نے شہر کے ضلع وسطی میں درختوں کو بے دردی سے کاٹنے کے الزام میں تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب شہر کے محدود سبز رقبے کے تیزی سے خاتمے پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ملزمان کو بدھ کی شب اس وقت پکڑا گیا جب مقامی رہائشیوں نے علاقے میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی اطلاع دی۔ پولیس نے جمعرات کی صبح گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے آلاتِ کٹائی قبضے میں لے لیے اور موقع سے ملنے والی گاڑی کو بھی تھانے منتقل کر دیا۔
یہ واقعہ شہری ترقی، زمینوں پر قبضے اور ماحولیاتی صحت کے درمیان جاری کشمکش کا عکاس ہے۔ ملزمان کا دعویٰ ہے کہ وہ نجی احکامات پر کام کر رہے تھے، تاہم پولیس اب اس پہلو کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ کسی منظم گروہ کا حصہ ہے جو تجارتی مقاصد کے لیے زمین خالی کروا رہا ہے۔
تفتیش سے واقف ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ "ہم صرف درخت کاٹنے کے ایک معمولی واقعے کی تحقیقات نہیں کر رہے، بلکہ اس نیٹ ورک کو تلاش کر رہے ہیں جس نے یہ احکامات دیے اور اس زمین کا اصل مقصد کیا تھا۔”
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ کراچی کا ضلع وسطی، جو ملک کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہے، پہلے ہی عوامی تفریح گاہوں اور سبز مقامات کی شدید قلت کا شکار ہے۔ اس شدید گرمی میں چند پختہ درختوں کا ضیاع بھی مقامی درجہ حرارت اور ہوا کے معیار پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
مقامی میونسپل انتظامیہ کو گزشتہ چند ماہ کے دوران شہر کی موجودہ ہریالی کے تحفظ میں ناکامی پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اگرچہ یہ گرفتاریاں ماحولیاتی کارکنوں کے لیے ایک چھوٹی سی کامیابی ضرور ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ اپنی جگہ برقرار ہے؛ کراچی میں درختوں کا رقبہ مسلسل سکڑ رہا ہے اور اکثر اوقات اس کے ذمہ داران قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔
تینوں ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں اور انہیں کل مقامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔ فی الحال، متاثرہ جگہ پولیس کی نگرانی میں ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اب شاید شہر کے معدوم ہوتے درختوں کی جانب حکام کی توجہ کچھ بہتر ہو رہی ہے۔
