الجزائر: الجزائر کی فٹ بال ٹیم نے منگل کے روز ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کرنے والی اردن کی ٹیم کو 0-3 سے شکست دے کر ان کی پیش قدمی روک دی۔ 5 جولائی 1962 اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں میزبان ٹیم کا تجربہ اردن کی ناتجربہ کاری پر بھاری پڑا۔
میچ کا آغاز ہوتے ہی الجزائر نے ہائی پریس حکمت عملی اپنائی جس نے اردن کے دفاعی کھلاڑیوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ اردن، جو اپنی تاریخ میں پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر موجود تھا، شروع سے ہی اپنی پوزیشن سنبھالنے میں ناکام دکھائی دیا۔
میچ کے بعد اردن کے ہیڈ کوچ نے اعتراف کیا کہ "ہم ایک منصوبہ لے کر آئے تھے، لیکن پہلے بیس منٹ میں جس شدت کا سامنا کرنا پڑا اس نے ہمیں سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ اس سطح پر گیند پر کنٹرول کھونے کی غلطی معاف نہیں کی جاتی۔”
الجزائر کو پہلا گول 14ویں منٹ میں ملا۔ بائیں جانب سے شروع ہونے والے ایک تیز حملے نے اردن کے دفاع کو بکھیر کر رکھ دیا اور فارورڈ کھلاڑی نے باآسانی گیند جال میں پہنچا دی۔ اس گول نے نہ صرف اسٹیڈیم کا ماحول گرمایا بلکہ اردن کے حوصلے بھی پست کر دیے۔
میچ کے 24ویں منٹ میں الجزائر نے اپنی برتری دوگنا کر لی۔ اردن کے مڈ فیلڈر کی ایک معمولی غلطی پر الجزائر نے جوابی حملہ کیا اور گول کیپر کو چکما دیتے ہوئے دوسرا گول سکور کر دیا۔
دوسرے ہاف میں الجزائر نے دفاعی انداز اپنایا جبکہ اردن نے گول کرنے کے لیے اپنے کھلاڑیوں کو آگے بڑھایا۔ اردن نے دو بار گول کرنے کے قریب پہنچ کر الجزائر کے گول کیپر کو آزمایا، لیکن وہ اپنی ٹیم کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے۔
انجری ٹائم میں الجزائر نے تیسرا گول کر کے اپنی فتح کو یقینی بنا لیا۔ جیسے ہی ریفری نے آخری سیٹی بجائی، میدان میں موجود اردنی کھلاڑی مایوسی کے عالم میں گراؤنڈ پر بیٹھ گئے، جبکہ الجزائر کے ڈگ آؤٹ میں جشن کا سماں تھا۔
الجزائر اس فتح کے بعد ناک آؤٹ مرحلے کے لیے مضبوط امیدوار بن کر ابھرا ہے۔ دوسری جانب اردن کا ورلڈ کپ کا سفر تو ختم ہو گیا ہے، لیکن یہ شکست ان کے لیے عالمی مقابلوں کی سختیوں کا ایک سبق آموز تجربہ ثابت ہوئی ہے۔ اب اردنی ٹیم کے پاس اگلے مقابلوں کی تیاری کے لیے بہت سا ہوم ورک موجود ہے۔
