ہوسٹن — سویڈن کے سابق اسٹار فٹبالر زلاٹن ابراہیموچ کو پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو کے ریکارڈ ساز گولز کا مذاق اڑانا مہنگا پڑ گیا، اور سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے فٹبال فینز نے سویڈش کھلاڑی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب 23 جون 2026 کو ہوسٹن میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج میچ میں پرتگال نے ازبکستان کو 5-0 سے عبرتناک شکست دی۔ اس میچ میں 41 سالہ رونالڈو نے شاندار واپسی کرتے ہوئے پہلے ہاف میں دو گول اسکور کیے۔ پہلے میچ میں کانگو کے خلاف مایوس کن کارکردگی پر تنقید کا سامنا کرنے والے رونالڈو نے ازبکستان کے خلاف گول کرنے کے بعد کیمرے کے سامنے جذباتی ہو کر چلایا تھا، "میں واپس آ گیا ہوں!”۔
جب فاکس اسپورٹس پر بطور تجزیہ کار موجود زلاٹن ابراہیموچ سے رونالڈو کے ان گولز اور بیان کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: "یہ ایسا میچ تھا جس میں گول ہونے ہی تھے۔ یہ پرتگال کے لیے بہت سارے گول کرنے کا میچ تھا۔ اور رونالڈو کا پیغام؟ میرا خیال تھا کہ وہ کبھی کہیں گئے ہی نہیں تھے۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ‘میں واپس آ گیا ہوں’۔”
ابراہیموچ کے اس بیان کے بعد رونالڈو کے مداحوں نے انٹرنیٹ پر سویڈش کھلاڑی کے خلاف محاذ کھول دیا اور "رونالڈو کا سب سے بڑا حاسد” کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا۔ صارفین نے لکھا کہ ابراہیموچ رونالڈو کی تاریخی کامیابی کو کم تر دکھانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور وہ حسد میں "اپنے آنسو چھپانے” کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ازبکستان کے خلاف ان دو گولز کی بدولت کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی تاریخ کے کئی بڑے ریکارڈز اپنے نام کیے۔ وہ دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے لگاتار 6 مختلف ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں گول اسکور کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، ورلڈ کپ میں ان کے مجموعی گولز کی تعداد 10 ہو گئی ہے، جس کے بعد وہ یوسیبیو کو پیچھے چھوڑ کر ورلڈ کپ کی تاریخ میں پرتگال کے سب سے بڑے گول اسکورر بھی بن گئے ہیں۔
میچ کے بعد پرتگال کے کوچ رابرٹو مارٹنیز نے رونالڈو کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "وہ ایک آئیکن اور رول ماڈل ہیں، صرف گولز کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے پاسز اور کھیل کی وجہ سے بھی۔” اس میچ میں رونالڈو کے علاوہ نونو مینڈس اور رافیل لیاؤ نے بھی گول کیے، جبکہ ایک گول ازبکستان کی طرف سے اون-گول ہوا۔
