احمد آباد، یکم جون — ٹیسٹ کرکٹ میں خراب روشنی کے باعث کھیل رکنے کا مسئلہ کم کرنے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ایک اہم آزمائشی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت، دونوں ٹیموں کی پیشگی رضامندی سے، ٹیسٹ میچ کے دوران سرخ گیند کو گلابی گیند سے تبدیل کیا جا سکے گا تاکہ کم روشنی میں بھی کھیل جاری رکھا جا سکے۔
آئی سی سی بورڈ اجلاس میں منظور ہونے والی یہ تبدیلی فوری طور پر مستقل قانون نہیں بنائی گئی بلکہ اسے آزمائشی بنیادوں پر نافذ کیا جائے گا۔ مقصد صاف ہے: ایسے حالات میں زیادہ سے زیادہ اوورز مکمل کرائے جائیں جہاں خراب روشنی کے باعث میچ روکنا پڑتا ہے، حالانکہ اسٹیڈیم میں فلڈ لائٹس موجود ہوتی ہیں۔
ممکنہ طریقہ کار کے مطابق ٹیسٹ میچ روایتی سرخ گیند سے ہی شروع ہوگا۔ لیکن اگر دن کے آخری حصے میں روشنی کم ہو جائے اور امپائرز کو محسوس ہو کہ سرخ گیند کے ساتھ کھیل جاری رکھنا مشکل ہے، تو دونوں ٹیموں کی پہلے سے دی گئی منظوری کی صورت میں کھیل گلابی گیند کے ساتھ جاری رہ سکے گا۔
یہ فیصلہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے چھوٹا نہیں۔ سرخ گیند اس فارمیٹ کی شناخت سمجھی جاتی ہے، جبکہ گلابی گیند عموماً ڈے نائٹ ٹیسٹ میچز میں استعمال ہوتی ہے۔ کئی کھلاڑی ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ گلابی گیند کا رویہ سرخ گیند سے مختلف ہوتا ہے، خاص طور پر مصنوعی روشنی اور شام کے وقت۔ کبھی یہ زیادہ سوئنگ کرتی ہے، کبھی سلپ cordon اور وکٹ کیپر کے لیے اسے پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے، اور کبھی بلے بازوں کو اس کی لائن جلدی سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس آزمائش پر بحث ضرور ہوگی۔ ایک طرف شائقین اور براڈکاسٹرز کے لیے یہ خوش آئند قدم ہے کیونکہ میچ کے اہم لمحات خراب روشنی کے سبب ضائع نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف ٹیمیں یہ سوال اٹھا سکتی ہیں کہ کیا گیند کی تبدیلی سے مقابلے کا توازن متاثر ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب میچ نازک مرحلے میں ہو۔
خراب روشنی ٹیسٹ کرکٹ کا پرانا مسئلہ ہے۔ کئی بار ایسے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں کہ گراؤنڈ میں بڑی فلڈ لائٹس روشن ہوتی ہیں، شائقین اسٹینڈز میں موجود ہوتے ہیں، مگر امپائرز کھلاڑیوں کو میدان سے باہر لے جاتے ہیں کیونکہ سرخ گیند مناسب طور پر دکھائی نہیں دیتی۔ آئی سی سی کی نئی آزمائش اسی تضاد کو کم کرنے کی کوشش ہے۔
آئی سی سی نے اس معاملے پر مزید تحقیق کے لیے میری لیبون کرکٹ کلب، یعنی ایم سی سی، کے ساتھ مل کر اسٹیڈیم لائٹنگ ٹیکنالوجی پر کام کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کن حالات میں روشنی کھیل کے لیے محفوظ اور مناسب سمجھی جا سکتی ہے، اور میچ آفیشلز کو بہتر فیصلوں میں کیسے مدد دی جا سکتی ہے۔
بورڈ اجلاس میں صرف گلابی گیند کی آزمائش ہی زیر بحث نہیں آئی۔ آئی سی سی نے دیگر پلیئنگ کنڈیشنز میں بھی تبدیلیوں کی منظوری دی، جن میں مشتبہ بولنگ ایکشن کے جائزے کے لیے ہاک آئی ڈیٹا تک رسائی، ٹی ٹوئنٹی اننگز کے وقفے کا دورانیہ، ڈرنکس بریک کے دوران کوچز کی کھلاڑیوں تک رسائی، اور لیگ سائیڈ وائیڈز سے متعلق آزمائشی قانون کو مستقل شکل دینا شامل ہے۔
فی الحال سب کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ کون سی ٹیمیں اس آزمائش کو اپنانے پر آمادہ ہوتی ہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو ٹیسٹ کرکٹ میں خراب روشنی کے باعث ضائع ہونے والا وقت واضح طور پر کم ہو سکتا ہے۔
لیکن ایک بات طے ہے: آئی سی سی اب اس مسئلے کو صرف روایت کے نام پر نظر انداز کرنے کو تیار نہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ کو اپنی روح برقرار رکھتے ہوئے جدید حالات کے مطابق ڈھلنا ہوگا، اور سرخ سے گلابی گیند کی یہ آزمائش اسی سمت ایک دلچسپ، مگر حساس قدم ہے۔
