اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزارتِ داخلہ اور اسلام آباد کے چیف کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کے لیے درکار زیرِ التوا ریکارڈ تین روز کے اندر جمع کرایا جائے۔
مطلوبہ ریکارڈ میں ٹاؤن کارپوریشنز کے مصدقہ نقشے، مردم شماری کے چارجز، سرکلز اور بلاکس کی تفصیلات سمیت حلقہ بندیوں سے متعلق دیگر ضروری دستاویزات شامل ہیں۔
یہ معاملہ نیا نہیں۔ مارچ میں بھی الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو طلب کیا تھا، جبکہ عدم تعمیل پر سیکرٹری داخلہ کو توہینِ کمیشن کا نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔
اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجہ یونین کونسلز، ٹاؤن ڈھانچے اور حلقہ بندیوں سے متعلق تبدیلیاں اور تنازعات ہیں۔
الیکشن کمیشن کی تین روزہ مہلت کے بعد اب معاملہ دوبارہ وزارتِ داخلہ کے پاس ہے۔ اگر مطلوبہ دستاویزات بروقت فراہم کر دی گئیں تو کمیشن حلقہ بندیوں کو حتمی شکل دینے کی طرف بڑھ سکے گا، جو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے نئے شیڈول کے اعلان سے پہلے ایک لازمی مرحلہ ہے۔
