ڈینی وائٹ-ہاج نے صوفیہ ڈنکلی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگلینڈ کو ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے ان سے بڑی اور جارحانہ اننگز کی امید ہے، ایسے وقت میں جب میزبان ٹیم کے بیٹنگ آرڈر میں جگہ بنانے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔
انگلینڈ کے لیے معاملہ اب صرف فارم کا نہیں رہا۔ ورلڈ کپ 12 جون 2026 کو برمنگھم کے ایجبسٹن میں انگلینڈ اور سری لنکا کے میچ سے شروع ہوگا، اور اس سے پہلے بھارت کے خلاف جاری ٹی ٹوئنٹی سیریز کھلاڑیوں کے لیے آخری بڑا امتحان بن گئی ہے۔ آئی سی سی کے شیڈول کے مطابق انگلینڈ اپنی مہم سری لنکا کے خلاف شروع کرے گا، جبکہ ٹورنامنٹ 5 جولائی تک جاری رہے گا۔
وائٹ-ہاج کا ڈنکلی پر اعتماد اہم ہے، کیونکہ انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر میں مقابلہ سخت ہو گیا ہے۔ ڈنکلی ایک ایسی بیٹر ہیں جو سیٹ ہو جائیں تو پاور پلے کا رنگ بدل سکتی ہیں۔ وہ گیند کو سیدھا اور طاقت سے کھیلتی ہیں، اسپنرز پر دباؤ ڈالتی ہیں، اور چند اوورز میں میچ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مگر ورلڈ کپ اسکواڈ میں صرف صلاحیت کافی نہیں ہوتی۔ وہاں تازہ فارم بھی بولتی ہے۔
بھارت کے خلاف سیریز نے انگلینڈ کی تیاریوں کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں بھارت نے 38 رنز سے کامیابی حاصل کی، جہاں یستیکا بھاٹیا اور جمیمہ روڈریگز کی نصف سنچریوں نے بھارت کو 188 رنز تک پہنچایا۔ جواب میں انگلینڈ 150 رنز بنا سکا، اگرچہ ایمی جونز نے 67 رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ شکست ایسی تھی جس کے بعد سلیکٹرز ہر بیٹنگ پوزیشن کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انگلینڈ نے دوسرے میچ میں بہتر جواب دیا۔ برسٹل میں میزبان ٹیم نے 26 رنز سے کامیابی حاصل کر کے سیریز 1-1 سے برابر کی۔ فریا کیمپ نے صرف 13 گیندوں پر ناقابل شکست 39 رنز بنائے اور پھر بولنگ میں بھی دو وکٹیں حاصل کیں۔ بھارت 169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 142 رنز پر رک گیا۔ کیمپ کی اس آل راؤنڈ کارکردگی نے انگلینڈ کے مڈل آرڈر کی بحث کو اور بھی پیچیدہ کر دیا ہے، کیونکہ وہ بیٹنگ کے ساتھ بولنگ کا آپشن بھی دیتی ہیں۔
یہی وہ دباؤ ہے جس میں ڈنکلی کو اپنی جگہ مضبوط کرنی ہے۔ انگلینڈ کے پاس ایمی جونز، ہیتھر نائٹ، ایلس کیپسی، ڈینی وائٹ-ہاج، فریا کیمپ اور ڈینی گبسن جیسے بیٹنگ آپشنز موجود ہیں۔ اوپر سے کپتان نیٹ سکیور-برنٹ بھی واپسی کے قریب ہیں، جو پنڈلی کی انجری کے باعث حالیہ میچز سے باہر رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق سکیور-برنٹ نے بیٹنگ پریکٹس شروع کر دی ہے، تاہم وہ ابھی بولنگ پر واپس نہیں آئیں۔ ان کا ہدف ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ تک فٹ ہونا ہے۔
وائٹ-ہاج کی اپنی واپسی بھی انگلینڈ کے لیے بڑی خبر ہے۔ تجربہ، جارحانہ مزاج اور بڑے ٹورنامنٹس کا دباؤ سنبھالنے کی صلاحیت — یہ سب چیزیں انہیں اہم بناتی ہیں۔ لیکن ان کی موجودگی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ڈنکلی جیسے بیٹرز کے لیے جگہ آسان نہیں رہی۔
ڈنکلی کے لیے راستہ سیدھا ہے: تیز آغاز، صاف شاٹس، اور ایسی اننگز جو سلیکشن بحث کو ختم کر دے۔ انگلینڈ کو ورلڈ کپ میں صرف مستحکم بیٹنگ نہیں چاہیے، اسے ایسے کھلاڑی چاہییں جو مخالف ٹیم کو پہلے چھ اوورز ہی میں پیچھے دھکیل دیں۔
وائٹ-ہاج کو لگتا ہے کہ ڈنکلی یہ کر سکتی ہیں۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ وہ آتش بازی کب دکھاتی ہیں — بھارت کے خلاف سیریز کے فیصلہ کن میچ میں، یا سیدھا ورلڈ کپ کے بڑے اسٹیج پر۔
