عراق نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنی 26 رکنی حتمی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے، اور ہیڈ کوچ گراہم آرنلڈ نے زیادہ تر انہی کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھا ہے جنہوں نے ملک کو 40 سال بعد عالمی کپ تک پہنچایا۔
عراق کی ٹیم میں سب سے بڑا نام تجربہ کار فارورڈ ایمن حسین کا ہے، جو حملے کی قیادت کریں گے۔ ان کے ساتھ علی الحمادی، علی جاسم، یوسف امین اور مہند علی بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ مڈفیلڈ میں یورپ میں کھیلنے والے زیدان اقبال اور ایمار شیر کو شامل کیا گیا ہے، جو عراق کے لیے تکنیکی معیار اور بین الاقوامی تجربہ لے کر آتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق کوچ آرنلڈ نے اس اسکواڈ میں تجربے اور ٹیم کی یکجہتی کو ترجیح دی ہے۔
عراق کے لیے یہ ورلڈ کپ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ٹیم آخری بار 1986 میں عالمی کپ میں کھیلی تھی، اور اب چار دہائیوں بعد دوبارہ اسٹیج پر واپس آ رہی ہے۔ عراق نے مارچ 2026 میں میکسیکو میں کھیلے گئے انٹر کنفیڈریشن پلے آف میں بولیویا کو 1-2 سے شکست دے کر ورلڈ کپ میں جگہ بنائی۔ اس کامیابی نے عراقی فٹبال کے لیے ایک تاریخی باب کھول دیا۔
اسکواڈ سے ایک نمایاں نام باہر رہ گیا ہے۔ ڈاریو نامو، جو ڈنڈی کے ڈیفنڈر ہیں اور فن لینڈ کے یوتھ سسٹم سے عراق کی نمائندگی کی طرف آئے تھے، حتمی ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ عراق نے حالیہ مہینوں میں بیرون ملک کھیلنے والے کئی کھلاڑیوں کو اپنے منصوبے کا حصہ بنایا تھا۔
عراق کو ورلڈ کپ میں آسان گروپ نہیں ملا۔ ٹیم گروپ آئی میں فرانس، سینیگال اور ناروے کے ساتھ شامل ہے۔ یہ گروپ جسمانی مضبوطی، رفتار اور اعلیٰ معیار کی اٹیکنگ فٹبال کا امتحان ہوگا۔ ایسے میں عراق کو دفاعی نظم، مڈفیلڈ کی محنت اور ایمن حسین جیسے کھلاڑیوں کی فائنل تھرڈ میں کارکردگی پر بہت انحصار کرنا پڑے گا۔
گول کیپنگ میں جلال حسن کا تجربہ عراق کے لیے اہم ہوگا، جبکہ فہد طالب اور احمد باسل بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ رائٹرز کے مطابق کامل سعدی ٹیم کے ساتھ انجری کور کے طور پر موجود رہیں گے، یعنی اگر کسی گول کیپر کو مسئلہ ہوا تو عراق کے پاس بیک اَپ پلان تیار ہوگا۔
آرنلڈ کے لیے اصل چیلنج اب صرف ٹیم منتخب کرنا نہیں، بلکہ اسے بڑے میچز کے دباؤ کے لیے تیار کرنا ہے۔ فرانس کے خلاف عراق کو شاید زیادہ وقت بغیر گیند کے گزارنا پڑے، ناروے کے خلاف جسمانی مقابلہ سخت ہوگا، اور سینیگال کے خلاف رفتار اور طاقت دونوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
لیکن عراق کے پاس ایک چیز ہے جو اعداد و شمار سے بڑی ہے: واپسی کی بھوک۔ 40 سال بعد ورلڈ کپ میں آنے والی ٹیم عام طور پر صرف شرکت کے لیے نہیں کھیلتی۔ وہ کچھ ثابت کرنا چاہتی ہے۔
