لندن — برطانیہ میں زچگی کی صحت سے متعلق خدمات کی ایک بڑی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ 150 سے زائد نومولود بچوں کی اموات صحت کی دیکھ بھال میں سنگین کوتاہیوں سے منسلک ہو سکتی ہیں، جس کے بعد ملک کے صحت کے نظام میں مریضوں کی حفاظت اور جوابدہی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
جاری آزادانہ تحقیقات کے نتائج کے مطابق، متعدد غلطیاں، ناکافی طبی معیارات اور بروقت طبی مداخلت کے مواقع ضائع ہونے کے باعث کئی برسوں کے دوران بچوں کی اموات واقع ہوئیں۔ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا بہتر طبی فیصلوں اور مؤثر زچگی کی دیکھ بھال کے ذریعے ان سانحات کو روکا جا سکتا تھا۔
یہ تحقیقات متاثرہ خاندانوں کی شکایات کے بعد شروع کی گئی تھیں، جن کا الزام تھا کہ انتباہی علامات کو نظر انداز کیا گیا اور صحت کے اداروں نے ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ متعدد والدین نے برسوں تک انصاف، جوابدہی اور اصلاحات کے لیے مہم چلائی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
تحقیقات میں شامل طبی ماہرین نے رپورٹ کیا کہ جنین کی نگرانی، خطرات کے جائزے، ہنگامی ردعمل کے طریقہ کار اور طبی عملے کے درمیان رابطے جیسے شعبوں میں نمایاں خامیاں موجود تھیں۔ رپورٹ میں عملے کی کمی، ناکافی تربیت اور حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
اس سانحے سے متاثرہ خاندانوں نے تحقیقات کے نتائج کو ایک جانب دل دہلا دینے والا اور دوسری جانب حقائق کی تصدیق قرار دیا ہے۔ اگرچہ کئی خاندانوں نے حقیقت سامنے لانے کی کوششوں کو سراہا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی رپورٹ ان کے بچوں کے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ متعدد خاندانوں نے زچگی کی خدمات میں سخت نگرانی اور بامعنی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
نتائج کے جواب میں صحت کے حکام نے رپورٹ کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ حکام نے مریضوں کی حفاظت بہتر بنانے، طبی عملے کی تربیت کو مضبوط کرنے اور ملک بھر میں زچگی کی خدمات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے سفارشات پر عمل درآمد کا وعدہ کیا ہے۔
طبی تنظیموں نے بھی تحقیقات سے حاصل ہونے والے اسباق کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے نظام میں ناکامیوں کا شفاف جائزہ کمزوریوں کی نشاندہی اور مستقبل کے سانحات کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔
اس معاملے نے برطانیہ میں زچگی کی خدمات کے معیار پر ایک وسیع قومی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ مریضوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سے زچگی مراکز بہترین خدمات فراہم کرتے ہیں، لیکن نظام میں موجود مستقل مسائل کو حل کرنا ضروری ہے تاکہ ماؤں اور نومولود بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
حکومتی نمائندوں نے کہا ہے کہ مریضوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور ملک بھر میں صحت کے نتائج بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ تحقیقات کی سفارشات پر عمل درآمد کے ساتھ مزید جائزوں اور نگرانی کے اقدامات کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔
