وینزویلا میں آنے والے تباہ کن دوہرے زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اس بات کی افسوسناک یاد دہانی ہے کہ دنیا بھر میں بہت سی آبادیات اب بھی قدرتی آفات کے سامنے انتہائی غیر محفوظ ہیں۔ کم از کم 164 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 1,000 افراد کے زخمی ہونے سے اس سانحے کی شدت اور ان جانی و معاشی نقصانات کا اندازہ ہوتا ہے جو چند ہی لمحوں میں ایک بڑے زلزلے کے نتیجے میں سامنے آ سکتے ہیں۔
میری رائے میں یہ المیہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ آفات سے نمٹنے کی تیاری، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور مؤثر ہنگامی امدادی نظام میں سرمایہ کاری کتنی ضروری ہے۔ اگرچہ زلزلوں کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن بہتر تعمیراتی معیار، عوامی آگاہی اور منظم امدادی کارروائیوں کے ذریعے ان کے اثرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ہلاکتوں اور زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد انسانی امداد کی فوری ضرورت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو رہائش، طبی سہولیات، خوراک اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہوگی کیونکہ وہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کریں گے۔ ایسے حالات میں بین الاقوامی تعاون اور بروقت امداد متاثرہ علاقوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب امدادی کارکنوں، رضاکاروں اور ہنگامی خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی جرات اور لگن قابلِ ستائش ہے۔ ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے اور متاثرین کی مدد کے لیے ان کی مسلسل کوششیں مشکل وقت میں انسانی ہمدردی اور یکجہتی کی بہترین مثال ہیں۔
بالآخر، وینزویلا کا یہ سانحہ صرف ایک قومی المیہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ وہ اپنے آفات سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں اور مستقبل کی ہنگامی صورتحال کے لیے بہتر تیاری کریں۔ اس واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق آئندہ ایسے قدرتی سانحات کے دوران بے شمار جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
