پنجاب اسمبلی نے ‘پنجاب میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) بل’ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اب صوبے میں لڑکے اور لڑکی، دونوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ہے۔ اس قانون کا مقصد صوبے بھر میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور اس عمل میں ملوث افراد کے لیے سزاؤں کو سخت بنانا ہے۔ یہ قانون سازی صوبائی قوانین میں ایک اہم تبدیلی ہے، جہاں اب تک لڑکیوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 16 سال تھی۔ بل کے حامی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ عمر کو 18 سال پر یکساں کرنے سے صوبائی قوانین بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کم عمری کی شادیوں کے باعث لڑکیوں کی صحت اور نفسیاتی مسائل پر قابو پانا ہے۔ نئے قانون کے تحت کم عمری کی شادی منعقد کروانے یا اس میں سہولت کاری کرنے والے افراد کو چھ ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ قانون کا اطلاق ان افراد پر بھی ہوگا جو خود نابالغ سے شادی کریں گے؛ ایسے افراد کو ایک سال تک قید اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کم عمری کی شادیوں کے خلاف کام کرنے والے سماجی حلقے طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ یہ روایت زچگی کے دوران بلند شرح اموات اور لڑکیوں کے تعلیمی مواقع کے خاتمے کا سبب بنتی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ قانون میں اس تبدیلی کے بعد ان خاندانوں کو قانونی تحفظ ملے گا جو سماجی دباؤ کے باوجود بیٹیوں کی جلد شادی کے خلاف مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، اس قانون کا اصل امتحان اس کا نفاذ ہوگا۔ دیہی علاقوں میں روایتی سماجی اقدار اکثر سرکاری قوانین پر حاوی رہتی ہیں، اور مقامی سطح پر نکاح رجسٹر کرنے والے افسران کے پاس جوڑوں کی عمر کی تصدیق کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ایسے قوانین کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ پدرشاہی روایات اور نچلی سطح پر آگاہی کا فقدان رہی ہے۔ اسمبلی میں کچھ قدامت پسند ارکان نے اس بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کا استعمال روایتی خاندانوں کو ہراساں کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ان تحفظات کے جواب میں حکومتی ارکان کا موقف ہے کہ یہ قانون ثقافتی اقدار میں مداخلت کے بجائے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت نے اس قانون کے نفاذ کے لیے عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے، اگرچہ اس کے عملی اطلاق کا لائحہ عمل ابھی واضح ہونا باقی ہے۔ فی الحال، قانونی حد طے ہو چکی ہے: اب 18 سال سے کم عمر شادی جرم تصور ہوگی اور ریاست نے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
