کابل — افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے قریب واقع ایک یونیورسٹی کیمپس پر براہِ راست توپ خانے سے حملہ کیا ہے۔ صوبہ خوست کے مقامی انتظامی ترجمانوں کے مطابق، یہ واقعہ منگل کی رات پیش آیا جس نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر دی ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے اس مخصوص الزام پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم دفتر خارجہ کا موقف رہا ہے کہ ان کی کارروائیاں صرف اپنی حدود کے اندر کالعدم عسکریت پسندوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ الزامات کا مرکز خوست یونیورسٹی کا علاقہ ہے جہاں مقامی رہائشیوں نے شدید گولہ باری کی اطلاع دی، جس کے بعد طلباء کی رہائش گاہوں کو عارضی طور پر خالی کرانا پڑا۔ افغان صوبائی حکام کا دعویٰ ہے کہ حملے سے یونیورسٹی کی انتظامی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ ہلاکتوں کی فوری تصدیق نہیں ہوئی، البتہ مقامی ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ افراتفری کے دوران صدمے اور معمولی زخمی ہونے والے چند طلباء کو طبی امداد دی گئی ہے۔ کابل کے لیے یہ واقعہ سرحدی صورتحال میں ایک خطرناک تبدیلی ہے۔ طالبان حکومت کے لیے ان سرحدی جھڑپوں کو روکنا ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے، جو 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایک صوبائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانا تمام اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے جائے وقوعہ کے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔” دوسری جانب، پاکستان سرحدی علاقوں کو مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔ راولپنڈی میں فوجی قیادت کا موقف ہے کہ ان کا بنیادی مقصد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا خاتمہ ہے، جس کے بارے میں اسلام آباد کا الزام ہے کہ وہ افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ڈیورنڈ لائن پر سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئی ہے اور پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ خوست اور وزیرستان کے درمیان سرحدی حدود کا غیر واضح ہونا تصدیق کے عمل کو مشکل بناتا ہے۔ دونوں جانب سے اکثر ایک دوسرے پر پہل کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جبکہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ آزاد مبصرین کی رسائی کو ناممکن بناتا ہے۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب پاکستان شدید معاشی بحران اور نازک سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے، جبکہ افغان حکام پر ان عسکریت پسند گروپوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ حملے کی حقیقت جو بھی ہو، اس کے اثرات زمین پر نمایاں ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب فوجی چوکیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، اور سرحدی علاقوں کی معیشت کا دارومدار رکھنے والی تجارتی گزرگاہوں پر نقل و حمل سست پڑ گئی ہے، کیونکہ مقامی باشندے ممکنہ انتقامی کارروائی کے خوف میں مبتلا ہیں۔
