ہانگ کانگ: ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں فروخت کے باعث ایشیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھنے میں آئی، جس سے خطے کے بڑے شیئر انڈیکسز دباؤ کا شکار رہے۔
سرمایہ کاروں نے عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، شرح سود سے متعلق خدشات اور ٹیکنالوجی شعبے کی سست رفتار ترقی کے پیش نظر گروتھ اسٹاکس میں سرمایہ کاری کم کر دی۔ اس کے نتیجے میں سیمی کنڈکٹر، سافٹ ویئر اور الیکٹرانکس کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار عالمی معیشت کے مستقبل، بڑی مرکزی بینکوں کی آئندہ مالیاتی پالیسیوں اور کارپوریٹ نتائج کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز شرح سود میں ممکنہ اضافے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ شرح سود مستقبل کی آمدنی کے تخمینوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ کاروں نے نسبتاً محفوظ شعبوں جیسے صحت، یوٹیلیٹیز اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی کمپنیوں کی جانب رخ کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے، تاہم مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ایشیا کے ٹیکنالوجی شعبے کے طویل مدتی امکانات اب بھی مضبوط تصور کیے جا رہے ہیں۔
