لندن: ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی تیل کی منڈی میں آنے والے شدید اتار چڑھاؤ نے جیٹ فیول تیار کرنے والی ریفائنریز اور ہوابازی کے شعبے کو نئی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جہاں ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ آیا اور خدشہ پیدا ہوا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ ترسیل کا عمل بڑی حد تک جاری ہے، تاہم غیر یقینی صورتحال نے ریفائنریز کو خام تیل کی خریداری، پیداوار اور ذخائر کی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق جیٹ فیول بنانے والی ریفائنریز کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافے، نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات اور طلب میں اتار چڑھاؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسی لیے کئی اداروں نے ایندھن کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے متبادل ذرائع اور اضافی ذخائر پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔
ہوابازی کی صنعت بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ جیٹ فیول ایئرلائنز کے آپریٹنگ اخراجات کا ایک بڑا حصہ ہوتا ہے۔ اگر خام تیل مہنگا رہتا ہے تو فضائی کرایوں میں اضافہ، آپریٹنگ لاگت میں اضافے اور ایئرلائنز کے منافع پر دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوری طور پر سپلائی میں بڑے بحران کا خطرہ کم ہوا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اب بھی عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک اہم خطرہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل اور جیٹ فیول کی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال جاری رہ سکتی ہے۔
