موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ہمارے دور میں صحتِ عامہ کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن چکی ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، شدید موسمی واقعات، فضائی آلودگی اور بیماریوں کے بدلتے ہوئے رجحانات دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کر رہے ہیں اور صحت کے نظام پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
میرے خیال میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا صرف ماحول کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی صحت کو بہتر بنانے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ فضائی آلودگی میں کمی، صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینا اور صحت مند شہروں کی تعمیر سانس کی بیماریوں، شدید گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلی سے جڑے دیگر صحت کے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومتوں، کاروباری اداروں اور عام شہریوں، سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ پائیدار بنیادی ڈھانچے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل صحت کے نظام میں سرمایہ کاری سے نہ صرف کمیونٹیز مستقبل کے چیلنجز کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں گی بلکہ لوگوں کے معیارِ زندگی میں بھی بہتری آئے گی۔
