بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جمعرات کی صبح زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز ہرنائی سے تقریباً 38 کلومیٹر شمال میں تھا۔
زلزلہ صبح 4 بج کر 32 منٹ پر آیا۔ اس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی، جس کی وجہ سے جھٹکے کافی محسوس کیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کچھ کچے مکانات میں دراڑیں پڑیں، تاہم صوبائی انتظامیہ نے اب تک کسی جانی نقصان یا بڑے پیمانے پر تباہی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی ٹیمیں مرکز کے ارد گرد واقع پہاڑی علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں۔ دور دراز دیہاتوں میں مواصلاتی رابطوں میں تعطل امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ "ہم زمین پر موجود صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ دور افتادہ بستیوں میں کوئی ملبے تلے نہ دبے، تاہم اب تک کسی بڑے واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔”
بلوچستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے پاکستان کا سب سے زیادہ زلزلہ زدہ خطہ بناتا ہے۔ یہ صوبہ انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹس کے سنگم پر واقع ہے، جس کے باعث یہاں ماضی میں بھی تباہ کن زلزلے آ چکے ہیں، جن میں 2008 کا زیارت زلزلہ اور 2013 کا آواران کا واقعہ سرفہرست ہے۔
ہرنائی کے رہائشیوں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ خوف کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے اور کئی گھنٹے کھلی فضا میں گزارے۔ سورج نکلنے کے بعد معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع ہوئے، لیکن علاقے میں اب بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ صوبے کا بیشتر انفراسٹرکچر، خاص طور پر کچے مکانات، درمیانے درجے کے زلزلوں کے لیے بھی انتہائی غیر محفوظ ہیں۔ فی الحال صوبائی حکومت نے ہنگامی ریسکیو ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آفٹر شاک کی صورت میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
