کوہلو — بلوچستان کے ضلع کوہلو میں منگل کے روز یکے بعد دیگرے آنے والے تین زلزلوں نے مقامی آبادی کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداروں نے تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی، تاہم مسلسل جھٹکوں نے رہائشی ڈھانچوں کے استحکام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
زلزلے کا پہلا جھٹکا علی الصبح محسوس کیا گیا، جس کے بعد دو مزید جھٹکوں نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ خوش قسمتی سے، ان زلزلوں کا مرکز کوہلو شہر کی گنجان آباد آبادی سے دور پہاڑی سلسلوں کے قریب رہا، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا۔
مقامی دکاندار محمد خان نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا، "ہم نے تین الگ الگ مرتبہ زمین کو لرزتے محسوس کیا۔ لوگ گھروں کے اندر جانے سے ڈر رہے ہیں، لیکن رات کی شدید سردی میں باہر کھلے آسمان تلے رہنا بھی ممکن نہیں ہے۔”
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، ٹیمیں کچے مکانات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا جائزہ لے رہی ہیں۔ کوہلو کے دور دراز علاقوں میں تعمیرات کا زیادہ تر انحصار مٹی اور کچی اینٹوں پر ہے، جو زلزلے کے معمولی جھٹکوں کے سامنے بھی انتہائی غیر محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ پہاڑی اور ناہموار راستوں کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ارضیاتی ماہرین کے مطابق، بلوچستان کا یہ خطہ چمن فالٹ لائن کے قریب واقع ہے، جو ٹیکٹونک پلیٹوں کے تصادم کے باعث پاکستان کے سب سے زیادہ زلزلہ زدہ حصوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس خطے میں ٹیکٹونک سرگرمیاں معمول کا حصہ ہیں، لیکن ایک ہی دن میں تین جھٹکوں کا تسلسل علاقے کے ارضیاتی دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار عمارتوں سے دور رہیں اور غیر مستحکم ڈھلوانوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ فی الحال کوہلو کے مکین نہ صرف جھٹکوں کے تھمنے کے منتظر ہیں، بلکہ وہ اس طویل مدتی سوال کا جواب بھی تلاش کر رہے ہیں کہ آیا حکومت کبھی زلزلہ پروف تعمیرات کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی تشکیل دے گی یا انہیں ہر بار اسی طرح بے بسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
