وینزویلا میں بدھ کے روز آنے والے دو تباہ کن زلزلوں کے تقریباً دو دن بعد جمعہ کو غیر ملکی امدادی ٹیمیں اور سامانِ رساں دارالحکومت کاراکاس پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد 589 ہو چکی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2,980 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ لاپتہ افراد کا سراغ لگانے والی ویب سائٹ پر جمعہ کی صبح تک 50 ہزار سے زائد نام درج ہو چکے تھے۔ پبلک ہالیڈے کے دن آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے ان زلزلوں کو لاطینی امریکہ کی جدید تاریخ کے سب سے بڑے زلزلوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس سے اقوامِ متحدہ کے مطابق تقریباً 70 لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ زلزلہ 1967 کے زلزلے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ملکی تاریخ کا مہلک ترین سانحہ بن چکا ہے۔
ساحلی شہر ‘لا گوائیرا’ اس آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں بلند و بالا رہائشی عمارتوں سمیت کم از کم 100 عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے والی بھاری مشینری کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں میں شدید مایوسی پھیل رہی ہے اور لوگ اپنے پیاروں کو نکالنے کے لیے ہاتھوں اور نجی اوزاروں کی مدد سے کنکریٹ کے بلاکس ہٹانے پر مجبور ہیں۔ سرکاری امداد میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے عام شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی نیٹ ورک قائم کیے ہیں، جس کے تحت کاراکاس اور ویلنسیا سے موٹر سائیکلوں پر سوار سینکڑوں نوجوانوں نے کھانے پینے کا سامان اور دیگر ضروری اشیاء لا گوائیرا کے متاثرین تک پہنچائیں۔ زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ساحلی قصبے ‘مورون’ میں بھی مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور بچ جانے والے افراد بجلی اور پانی کے بغیر کھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں۔
وینزویلا کے معاشی اور سیاسی بحران کے باوجود عالمی برادری نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ سب سے پہلے ڈومینیکن ریپبلک کے دستے متاثرہ علاقوں میں پہنچے، جس کے بعد میکسیکو نے 250، ایل سلواڈور نے 188 اور اسپین نے تقریباً 100 امدادی اہلکار روانہ کیے ہیں۔ کولمبیا، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے دستے بھی کھوجی کتوں اور ملبے کے نیچے آوازیں سننے والے جدید ترین آلات کے ساتھ پہنچ چکے ہیں۔ ایک بڑی سیاسی پیش رفت میں امریکہ نے وینزویلا کے لیے 15 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے اور زلزلے سے متعلق سامان کی ترسیل کے لیے طویل عرصے سے عائد اقتصادی پابندیاں عارضی طور پر ختم کر دی ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق پینٹاگون کاراکاس کے متاثرہ ہوائی اڈے کی بحالی میں مدد فراہم کرے گا۔ دوسری جانب ملک کی معیشت کے لیے اہم ترین تیل کی تنصیبات اس زلزلے سے محفوظ رہی ہیں، جبکہ کاراکاس کی اسٹاک ایکسچینج کو مکمل طور پر امدادی سامان جمع کرنے کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
