اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نیول ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سمندری دفاع کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی خود مختاری اور بحری معیشت کا تحفظ ایک "مضبوط اور مستعد” بحری فوج کے بغیر ممکن نہیں۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے تقاضے پاکستان سے زیادہ چوکنا رہنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیرِ اعظم کی توجہ کا مرکز بحری بیڑے میں جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور مقامی سطح پر تیار کردہ ڈرون ٹیکنالوجی کا انضمام ہے۔ گوادر پورٹ کی توسیع اور بحیرہ عرب میں تجارتی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے پیشِ نظر، سمندری حدود کی نگرانی اب پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
وزیرِ اعظم نے کمانڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے بحری مفادات اب روایتی گشت تک محدود نہیں رہے۔” انہوں نے تسلیم کیا کہ ملکی معیشت اس وقت دباؤ کا شکار ہے، لیکن اس کے باوجود بحری دفاع کو ‘غیر متزلزل ترجیح’ قرار دیا۔
نیول قیادت نے اگلے دس سال کا روڈ میپ پیش کیا ہے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میری ٹائم پیٹرول طیاروں کی خریداری اور مقامی سطح پر اسٹیلتھ فرگیٹس کی تیاری شامل ہے۔ حکومتی حکمتِ عملی کا مقصد غیر ملکی دفاعی سازوسامان پر انحصار کم کرنا اور ٹیکنالوجی کی تنصیب کی رفتار بڑھانا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ایک وسیع تر اسٹریٹجک تبدیلی کا حصہ ہے۔ بحیرہ ہند میں بڑھتی ہوئی عالمی طاقتوں کی کشمکش کے دوران، پاکستان اپنی تجارتی گزرگاہوں پر اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ ایک ٹیکنالوجی سے لیس بحری موجودگی علاقائی امن کے لیے ایک موثر ڈیٹرنٹ ثابت ہوگی۔
دورے کے اختتام پر پاک چین اقتصادی راہداری کے سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر ایک بند کمرہ اجلاس بھی ہوا۔ اگرچہ اس کی تفصیلات صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، تاہم پیغام واضح ہے: جدیدیت کی رفتار کو علاقائی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔
اب اصل چیلنج یہ ہے کہ حکومت اٹھارہ ماہ سے جاری معاشی عدم استحکام کے باوجود ان دفاعی منصوبوں کے لیے فنڈز کیسے مختص کرتی ہے۔ قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈالے بغیر ان منصوبوں کی تکمیل موجودہ کابینہ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
