تہران — ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی ابھی اپنے آغاز میں ہے۔ منگل 5 مئی 2026 کی لائیو کوریج میں ان سے منسوب یہ پیغام سامنے آیا کہ ایران نے “ابھی تو شروع بھی نہیں کیا”، اور ساتھ ہی تہران نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری پیش قدمی اسے قابلِ قبول نہیں۔
یہ بیان ایک الگ تھلگ جملہ نہیں، بلکہ کئی ہفتوں سے بنتی ہوئی ایک سخت ایرانی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ قالیباف پچھلے دنوں بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکا دباؤ، دھمکی اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو جھکا نہیں سکا، اور تہران اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ بعض حالیہ رپورٹس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کسی دھمکی کے آگے نہیں جھکے گا اور اگر واشنگٹن نے آزمائش جاری رکھی تو اسے “بڑا سبق” دیا جا سکتا ہے۔
اس تازہ بیان کا فوری پس منظر آبنائے ہرمز میں بڑھتی عسکری سرگرمی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا نے پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کی رہنمائی اور حفاظت کے لیے ایک بحری آپریشن شروع کیا، جبکہ ایران نے خبردار کیا کہ اس آبی گذرگاہ میں کسی بھی امریکی عسکری مداخلت کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔ واشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی کے الزامات نے صورتِ حال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔
قالیباف کی حالیہ لائن کافی واضح ہے: بات چیت ہو سکتی ہے، مگر دباؤ کے سائے میں نہیں۔ اپریل کے وسط میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ بعض معاملات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن بڑے اختلافات بدستور باقی ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات پر۔
اسی تسلسل میں انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کو مذاکراتی عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا اس وقت ممکن نہیں جب تک امریکا اور اسرائیل وہ اقدامات بند نہ کریں جنہیں تہران اشتعال انگیز سمجھتا ہے۔
اصل اہمیت یہاں صرف بیان بازی کی نہیں، پیغام کی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، اور یہاں ذرا سی رکاوٹ بھی عالمی تیل منڈی، جہاز رانی کے اخراجات اور خطے کی سلامتی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے قالیباف کا یہ جملہ محض داخلی سیاست کے لیے دیا گیا نعرہ نہیں لگتا؛ یہ واشنگٹن، ثالثوں اور عالمی منڈیوں تینوں کے لیے ایک بیک وقت اشارہ ہے کہ تہران دباؤ کو سفارتی زبان میں نہیں بلکہ طاقت کے توازن کی زبان میں دیکھ رہا ہے۔ یہ تجزیہ ان کے حالیہ بیانات اور موجودہ کشیدگی کے تسلسل سے اخذ کیا گیا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا خطرہ غلط اندازے کا ہے۔ امریکی بحری نقل و حرکت، ایرانی دھمکیوں، تجارتی جہازوں پر حملوں کے دعووں اور جنگ بندی کے کمزور ڈھانچے نے خلیجی پانیوں کو ایک ایسے مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک معمولی واقعہ بھی بڑے تصادم میں بدل سکتا ہے۔
فی الحال اتنا ضرور واضح ہے کہ محمد باقر قالیباف نے امریکا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ تہران موجودہ دباؤ کو آخری مرحلہ نہیں بلکہ ابتدائی مرحلہ سمجھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سخت زبان محض مذاکراتی دباؤ بڑھانے کے لیے ہے یا واقعی اگلے قدم کی تمہید۔
