پاکستان محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں مون سون بارشوں کا پہلا سلسلہ جولائی کے پہلے ہفتے سے شروع ہو جائے گا۔ شدید گرمی کی لہر کے بعد یہ بارشیں جہاں شہریوں کے لیے ریلیف لائیں گی، وہیں محکمہ موسمیات نے بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کے حوالے سے بھی انتباہ جاری کر دیا ہے۔
تازہ ترین موسمیاتی ماڈلز کے مطابق، بارش کا یہ سسٹم 3 جولائی کو ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا۔ اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں تیز بارش کا امکان ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر ماہرِ موسمیات نے بتایا کہ "ہم بحیرہ عرب سے آنے والی نمی کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ابتدا میں بارش کی شدت شمالی علاقوں میں زیادہ ہوگی، تاہم دوسرے ہفتے تک یہ سسٹم وسطی اور جنوبی پنجاب کی طرف بڑھ جائے گا۔”
یہ پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شہری انتظامیہ نکاسی آب کے نظام کو فعال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں گزشتہ برسوں کے مون سون نے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا تھا، جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا کے زرعی شعبے کے لیے جولائی کی یہ بارشیں انتہائی اہم ہیں، کیونکہ یہ موسمِ گرما کی فصلوں کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، محکمہ موسمیات نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ گلیات، مری اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیشِ نظر الرٹ رہے۔
ملک کے آبی ذخائر کے لیے ان بارشوں کا ہونا ناگزیر ہے، لیکن شدید گرمی کے بعد اچانک موسمیاتی تبدیلی اکثر غیر متوقع صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ محکمہ موسمیات روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹس جاری کرے گا اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ خبروں کے بجائے سرکاری اعلامیوں پر انحصار کریں۔
آنے والا ہفتہ یہ ثابت کرے گا کہ میونسپل انتظامیہ نے گزشتہ برسوں کی غلطیوں سے کتنا سیکھا ہے۔ فی الحال گرمی کا زور ٹوٹنے والا ہے، لیکن بارشوں کا پانی شہروں کے نکاسی نظام کا امتحان لینے کے لیے تیار ہے۔
