کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کی تحقیقات ایک بار پھر تنازعات کی زد میں ہیں۔ قانونی ماہرین اور دکانداروں نے سرکاری رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ‘جان بوجھ کر حقائق چھپانے’ کی کوشش قرار دیا ہے۔
واقعے کو ایک برس گزرنے کے بعد عدالت میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں آگ لگنے کی وجہ محض ایک معمولی شارٹ سرکٹ کو قرار دے کر اصل مجرموں یعنی بلڈنگ انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور عمارت میں حفاظتی انتظامات کے فقدان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
ایک متاثرہ دکاندار، جس کی دکان مکمل طور پر خاکستر ہو گئی تھی، نے کہا، "یہ تفتیش نہیں، بلکہ انتظامیہ کو کلین چٹ دینے کا عمل ہے۔ وہ شارٹ سرکٹ کا کہہ کر جان چھڑا رہے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ بلڈنگ کے ہائیڈرنٹس خشک کیوں تھے اور ہنگامی راستوں پر سامان کے ڈھیر کیوں لگے ہوئے تھے؟”
تفتیشی رپورٹ میں فرانزک تجزیے کو بھی مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔ فائر بریگیڈ کی ابتدائی رپورٹ میں حفاظتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم موجودہ پولیس فائل میں بلڈنگ انتظامیہ کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ اس غفلت نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ تفتیش کے عمل کو کسی دباؤ کے تحت محدود رکھا گیا۔
متاثرہ تاجروں کے وکلاء اب اس رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ تفتیشی ٹیم نے ان کلیدی گواہان کے بیانات تک ریکارڈ نہیں کیے جو عمارت کی خستہ حالی اور انتظامی غفلت کا ثبوت دے سکتے تھے۔
کیس سے وابستہ ایک سینئر وکیل نے کہا، "جب آپ عمارت کی بنیادی خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو آپ جرم کی تفتیش نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ اسے دفن کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں بجلی کے معمولی فالٹ کا ذمہ دار نہیں، بلکہ ان لوگوں کا احتساب چاہیے جنہوں نے غیر قانونی طور پر عمارت کے سیفٹی سرٹیفکیٹس جاری کیے۔”
عدالت میں اگلی سماعت سے قبل پولیس پر اپنی تفتیشی حکمت عملی کا دفاع کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ متاثرین کے لیے یہ سرکاری رپورٹ نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ ان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
عدالت اب یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا اس معاملے کی کسی آزادانہ انکوائری کی ضرورت ہے یا نہیں۔ تب تک، گل پلازہ کے جلے ہوئے ڈھانچے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ سرکاری کاغذات اور زمینی حقائق کے درمیان کتنا بڑا فرق موجود ہے۔
