راولپنڈی: راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں 45 سالہ خاتون حنا جاوید کے مبینہ بہیمانہ قتل نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ پیدا کردیا ہے۔ شہریوں اور معروف شخصیات کی جانب سے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
حنا جاوید 20 اگست کو راولپنڈی کے عسکری اپارٹمنٹس میں واقع اپنے فلیٹ کے باتھ روم سے مردہ حالت میں پائی گئیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ان کے ہاتھ پشت کے پیچھے بندھے ہوئے تھے جبکہ منہ پر کپڑا رکھا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کی گردن کے گرد تار موجود تھی جو شاور سے منسلک تھی۔
شوہر اور گھریلو ملازم زیرِ حراست
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں مقتولہ کے شوہر اور ایک گھریلو ملازم کو حراست میں لے لیا ہے۔
حنا کے سسر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق انہیں ابھی گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔
واقعے کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ پولیس واقعے کی مکمل صورتحال جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار ہے۔
مقتولہ کے بھائی کے مطابق خاندان کو گھر میں کسی ہنگامی صورتحال کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد وہ رہائش گاہ پہنچے جہاں حنا کی لاش باتھ روم میں موجود تھی۔
خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ حنا کو ماضی میں بھی شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کا سامنا رہا تھا۔ تاہم ان الزامات کی حتمی تصدیق تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گی۔
خاندان نے واقعے کے حالات پر سوالات اٹھا دیے
ایف آئی آر میں مقتولہ کے بھائی نے الزام عائد کیا کہ حنا کو قتل کرنے سے قبل شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ حنا کو زہریلی چیز دی گئی ہوسکتی ہے، کیونکہ ان کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔
تاہم پولیس کی جانب سے اصل وجہ موت اور واقعے کی مکمل نوعیت جاننے کے لیے فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات تاحال تحقیقات کا حصہ ہیں اور عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
ماہرہ خان نے بھی آواز اٹھا دی
واقعے نے سوشل میڈیا پر اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب معروف پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے انسٹاگرام پر حنا کے خاندان کی جانب سے جاری کردہ خط شیئر کیا۔
ماہرہ خان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور حنا کی شادی کے لباس میں تصویر کے ساتھ خاندان کی جانب سے انصاف کی اپیل بھی شیئر کی۔
عفت عمر کا پنجاب حکومت سے کارروائی کا مطالبہ
اداکارہ عفت عمر نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے واقعے کا نوٹس لینے اور انصاف یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر زیادہ سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
’جسٹس فار حنا جاوید‘ مہم زور پکڑنے لگی
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر #JusticeforHina کے نام سے ایک مہم بھی سامنے آئی ہے۔
Justice for Hina Javed کے نام سے بنائے گئے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے مطابق اسے حنا کے خاندان اور دوست چلا رہے ہیں۔ اکاؤنٹ کے ذریعے کیس سے متعلق معلومات شیئر کی جا رہی ہیں اور عوام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انصاف کے لیے آواز بلند کریں۔
مہم نے مختصر وقت میں ہزاروں فالوورز حاصل کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیس نے سوشل میڈیا صارفین کی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
پولیس کی تحقیقات جاری
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ہیں جبکہ مقتولہ کا پوسٹ مارٹم بھی کیا جاچکا ہے۔ اب تفتیش کار فرانزک رپورٹس کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ اور واقعے سے قبل پیش آنے والے حالات کا تعین کیا جاسکے۔
پولیس زیرِ حراست افراد سے پوچھ گچھ کے ساتھ مقتولہ کے خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
حنا جاوید کے مبینہ قتل نے ایک بار پھر خواتین کے خلاف تشدد کے مسئلے کو نمایاں کردیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کوئی شخص قتل میں ملوث ثابت ہوتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
واضح رہے کہ زیرِ تفتیش افراد پر عائد الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے اور عدالت سے جرم ثابت ہونے تک انہیں قانوناً بے گناہ تصور کیا جائے گا۔
